Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

سے پاک کبر کے اس کو عبادت کے قابل بنایا (البداية والنهاية ۳۲۴/۱۲)

جاک بیرک ایک فرانسیسی تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں الجزائر میں پیدا ہوا۔ اس وقت الجزائر پر فرانس کا قبضہ تھا۔ جاک بیرک کے فرانسیسی والدین ایک استعماری ادارہ میں کام کرنے کے لیے الجزائر آئے تھے، جو لائی ۱۹۹۵ میں اس کا انتقال ہو گیا۔

جیک بیرک نے الجزائر میں عربی زبان سیکھی اور اس میں کمال حاصل کر لیا۔ وہ اسلامی موضوعات پر ایک عالم کی طرح کلام کرتا تھا۔ اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے وہ اسلام سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو گیا۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کی حمایت ومدافعت کرنے لگا۔ اس کی کئی کتابیں اس موضوع پر ہیں۔ مثلاً (العرب امس واليوم ۱۹۶۰)۔ اس نے قرآن کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ بھی کیا جو ایک عمدہ ترجمہ شمار کیا جاتا ہے۔ وغیرہ۔

ایک عرب نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا : (احب جان بيرك العربية والاسلام حتى لتحسبه عربيا مسلما ۔ وقد خسر العالم بموته خسارة يصعب ان تعوض - وخسى العرب والمسلمون صديقا من طراز نادر ۔

میں نے کہا کہ استعماری دور میں اس طرح کے بہت سے یورپی پیدا ہوئے جو یا تو اسلام دوست بن گئے یا انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ جب " استعمار " جیسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ کوئی غیر قوم آپ کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر لیتی ہے۔ مگر اس کا دوسرا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس عمل کے دوران اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان اختلاط پیش آتا ہے۔ بالفاظ دیگر مدعو خود چل کر داعی کے پاس آ جاتا ہے۔ لوگ عام طور پر پہلے رخ کو دیکھتے ہیں، وہ اس واقعہ کا دوسرا پہلو نہیں دیکھتے، اس لیے وہ اس کو استعمال بھی نہیں کر پاتے۔ اگر اس دوسرے پہلو کو منظم طور پر استعمال کیا جائے تو جیک بیرک جیسے ہزاروں لوگ پیدا ہو جائیں۔ حتی کہ خود اسرائیلیوں میں بھی، جن کو اب تک آپ صرف دشمن اور مخالف اسلام کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ وسلم میں میں کے مختلف لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہودی موجودہ مسجد اقصی کو ڈھا کر وہاں دوبارہ ہیکل سلیمانی بنانا چاہتے ہیں۔ مگر لوگوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page