Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
ایک صاحب نے کہا کہ یہ ایک بے وقوفی کی بات ہوگی کہ ہزار سال کی تاریخ کو رد کر کے نئی تاریخ لکھنے کی کوشش کی جائے ۔
ایک عیسائی انجینئر جو روم میں رہتے ہوں اور بار بار یروشلم آتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سنا کہ یہودیوں میں کوئی سنجیدہ خواہش اس بات کی ہے کہ ہیکل سلیمانی کو دوبارہ اسی جگہ بنایا جائے ۔ بعض انتہا پسند افراد ایسا کہتے ہیں گے مگر نہ وہ یہودی قوم کی بات ہے اور نہ حکومتِ اسرائیل کی بات :
I have never heard that there is a serious intention to rebuild the temple of Israel on the same area where it was before its last destruction. (Antonello Paba)
مجھے جس ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اس کا انگریزی نام (7-Hotel arches) ہے ، اور اس کا عربی نام فندق الاقواس ہے۔ جائے وقوع کے اعتبار سے یہ یروشلم کا نمبر ایک ہوٹل ہے۔ اس کے چاروں طرف قدرتی مناظر اور تاریخی نشانیوں کے سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہوٹل میں یہودی اور مسلمان بالکل معتدل فضا میں ملتے ہوئے نظر آئے۔ اکثر صباح الخیر، السلام علیکم ، حیاک اللہ جیسے عربی الفاظ سنائی دیتے ہیں۔ ہوٹل کی دیواروں پر شیشہ کے فریم میں جو خوب صورت تصویریں لگی ہوئی ہیں ، ان میں متعدد خالص عربوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً ایک بڑے فریم میں بہت سی رنگین تصویریں ہیں۔ اس کے اوپر عربی میں لکھا ہوا ہے : لمحة عن الحياة البدوية ۔ اس میں تصویروں کے ذریعہ بدوی علاقہ کے فلسطینیوں کی زندگی کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس طرح ایک اور فریم دیوار پر نظر سے گزرا۔ اس کے اوپر لکھا ہوا تھا : التراث الفلسطینی ۔ اس میں فلسطینیوں کی بعض تاریخی چیزیں خوب صورت تصویروں کے ذریعہ دکھائی گئی تھیں۔
۲۷ اگست کو دو پہر بعد میں اپنے ساتھی کے ہمراہ نکلا۔ گاڑی ہم نے ایک جگہ پارک کر دی اور عرب سیکٹر کے بہت بڑے علاقہ میں پیدل گھومتے رہے۔ گھنٹوں ادھر سے اُدھر گئے، فلسطینی بچے، نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ بالکل معتدل انداز میں اپنا کام کرتے ہوئے نظر آئے ۔ ان کے چہروں پر غم یا خوف و ہراس نظر نہیں آیا۔ پورے علاقہ میں صرف ایک جگہ تین اسرائیلی فوجی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues