Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

گن لیے ہوئے بیٹھے تھے۔ وہ آپس میں غالباً عبرانی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ ۲۷ اگست کی صبح کو میں نیچے اترا۔ رسیپشن ڈسک کے پیچھے کھڑے ہوئے خوش پوش نوجوان نے کہا کہ آج آپ کیسے ہیں (How are you today) میں نے کہا کہ فائن۔ اس نے دوبارہ کہا: الحمد للہ۔ بعد کو مجھے معلوم ہوا کہ یہ ہوٹل فلسطینی عربوں کا ہے۔ چنانچہ ہوٹل کا عملہ بیشتر عرب افراد پر مشتمل ہے۔ ایک نئی بات یہ نظر آئی کہ یہاں ہوٹل کی خدمات میں عام قاعدہ کے مطابق لڑکیاں ہیں ہیں بلکہ سارا کام مرد کرتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ میں مجھے کوئی خاتون نظر نہیں آئی۔ ۲۷ اگست کی شام کو چار بجے مسٹر انٹونیو نیو (Mr. Antonello Paba) کے ساتھ مقامات مقدسہ دیکھنے کے لیے نکلا۔ کئی کلومیٹر کے دائرہ میں پھیلا ہوا ایک وسیع احاطہ ہے جس کے اندر یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات واقع ہیں۔ راستہ میں ہر جگہ سیاح مردوں اور عورتوں کی بھیڑ نظر آئی۔

طویل راستہ طے کرنے کے بعد ہم لوگ مسجد اقصی پہنچے۔ یہ ایک ہی بڑا احاطہ ہے جس کے اندر ایک طرف مسجد اقصی ہے اور دوسری طرف سو قدم کی دوری پر بیت المقدس (قبة الصخرہ) واقع ہے۔ سب سے پہلے میں مسجد اقصی میں داخل ہوا۔ یہ بہت بڑی اور بلند و بالا مسجد ہے۔ اس کا اندرونی حصہ ایک طرف سے ۱۱۰ قدم اور دوسری طرف ۸۵ قدم ہے۔ یہاں میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور دعائیں کیں، کئی آدمی بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد بیت المقدس میں گیا۔ اس کو قبة الصخرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے نیچے درمیان میں پتھر کی ایک چٹان ہے۔ یہ چٹان تقریباً کمر تک اونچی ہے۔ چٹان کے چاروں طرف لکڑی کا کٹہرا بنا دیا گیا ہے۔ کٹہرا اور گنبد کی دیوار کے درمیان گول دائرہ میں ایک گیلری ہے میں نے اس گیلری میں چل کر دیکھا تو وہ دو تنو قدم تھی۔ اس گیلری میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی اور دعائیں مانگیں۔ قبة الصخرہ مسجد نہیں ہے بلکہ چٹان کے اوپر قبہ ہے، اور اس کے باہر کشادہ صحن۔ اس کے بعد میں مسجد عمر بن الخطاب گیا۔ یہ مسجد چھوٹی ہے ۔ ۲۵ قدم چوڑی اور ۲۵ قدم لمبی۔ اس کی چھت بھی زیادہ اونچی نہیں۔ یہاں بھی میں نے دو رکعت نماز ادا کی۔ مسجد کے بیرونی حصہ میں جدید طرز کے وضو خانے اور غسل خانے بنے ہوئے ہیں۔ مسجد کے پاس ہی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page