Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

کنیسۃ القیامہ (Church of Resurrection) ہے جو کافی بڑا ہے۔

اس وقت مجھ پر ایک تحیر کی کیفیت طاری تھی۔ ان مقدس مقامات کی زیارت اور ان میں نماز ادا کرنا مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ کیوں کہ زندگی میں کبھی میں یہ سوچ بھی نہیں سکا تھا کہ میں قدس جاؤ ں گا اور وہاں ایسی جگہ سجدہ کروں گا۔ جہاں پیغمبروں نے اور اصحاب پیغمبر نے سجدے کیے ہیں۔

۲۸ اگست کو صبح کا وقت ہے۔ سورج کی چمک دار روشنی باہر کے پورے ماحول کو منور کیے ہوئے ہے۔ میرے کمرے کے قد دیوار “ شیشیوں کے باہر بیت المقدس اور مسجد اقصی کی عمارتیں دکھائی دے رہی ہیں۔

مسجدِ اقصی کے اندر آپ داخل ہوں تو وہ نہایت عظیم اور پرہیبت دکھائی دیتی ہے۔ میں نے اتنی پرہیبت مسجد کوئی اور نہیں دیکھی۔ بیت المقدس کا نقشہ دوسرا ہے۔ اس کا طرز مقبرہ جیسا ہے۔ یعنی درمیان میں بڑا سا پتھر، اس کے اوپر اونچا گنبد، اور پتھر کے گرد گول دائرہ میں ایک گیلری۔

کمرہ سے ان تاریخی مناظر کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں قرآن کی یہ آیت آئی: سُبحانَ الذي أسرى بعبده ليلاً من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا (الاسراء) ان قرآنی الفاظ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ باركنا حوله سے مراد غالباً اس مقام کا یہ امتیازی پہلو ہے کہ یہاں کی سرزمین سے بہت سے جلیل القدر انبیاء کی تاریخ وابستہ ہے۔ گویا یہ سرزمین نبوت ہے۔ اور لنريه من آياتنا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو چشم زدن میں مکہ سے ۸۰۰ کلومیٹر دور یروشلم میں لاکراس نئے آنے والے دور کا تعارف کرایا جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔

اس غیر معمولی سفر کے ذریعہ اس بات کا ایک مظاہرہ کیا گیا کہ خدا کا دین اب قومی نبوت کے دور سے گزر کر بین اقوامی نبوت کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ اب وہ مقامی پیغام رسانی کی محدودیت سے نکل کر عالمی پیغام رسانی کے وسیع تر دائرہ میں پہنچ گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page