It is absolutely incorrect
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۴
میں منطبق کرنا ہے۔ سائنس سے بے تعلقی ایسی ہی تھی جیسے آفتاب کے نکلنے کے بعد کوئی شخص اپنی دونوں آنکھوں کو بند کر لے۔
۲۲ اکتوبر کو صبح کاسیشن اسلام کے بارہ میں تھا۔ اس کی صدارت اٹلی کے ایک مشہور جرنلسٹ ایگورمان (Igor Man) نے کی۔ چار مسلم مقررین تھے۔ مصطفیٰ العلوی (مراکو)، احمد محمد زباره (یمن)، نصراللہ پور زوادی (ایران) اور راقم الحروف ۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ باہر کے برآمدہ میں بھی بہت سے لوگ کھڑے ہوئے نظر آئے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ لوگ اسلام کے بارہ میں سننا چاہتے ہیں۔
پہلے صدر جلسہ نے مختصر تقریر اطالوی زبان میں کی۔ اس کو میں نے انگریزی میں سنا۔ انھوں نے کہا کہ یورپی ملکوں میں اسلام کے بارہ میں ایک خوف (fear) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ اسلام ان ٹالرنس کو فروغ دیتا ہے۔ مقررین کو آج اس سوال کا جواب دینا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام اگر تشدد کا مذہب ہوتا تو وہ ساری دنیا میں پھیل نہیں سکتا تھا۔ اور اگر سیاسی طاقت کے زور پر پھیلتا تو سیاسی طاقت کے کمزور ہوتے ہی وہ ختم ہو جاتا۔
شیخ احمد محمد زباره نے اپنی عربی تقریر میں قرآن کی کئی آیتیں پیش کیں اور کہا کہ اسلام تمام آسمانی مذاہب کی تصدیق کرتا ہے (ان الاسلام يُقِرُّ الأديان السماوية كلها)۔ شیخ مصطفیٰ العلوی کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام عدل اور سلامتی کا دین ہے۔ (الاسلام دين العدل والسلام)۔ پروفیسر پور زوادی کی انگریزی تقریر ایرانی اسلام پر تھی۔ انھوں نے کہا کہ نو جوانی کی عمر میں ہم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام سارے مسائل کا حل ہے۔ اس لئے ہم لوگ شاہ کی حکومت کے خلاف ہو گئے تاکہ اس کو ختم کر کے اپنے خوابوں کا اسلام قائم کر سکیں۔ مگر انقلاب کے بعد ایران میں نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ مثلاً یہ سوال پیدا ہو گیا کہ کیا دورِ جدید میں سنگسار کرنا اور ہاتھ کاٹنا جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ جلسہ کے آخر میں میں نے ایرانی پروفیسر سے کہا کہ آپ نے تو صرف مسائل بیان کئے، حالاں کہ مقرر کی حیثیت سے آپ سے توقع کی گئی تھی کہ آپ مسائل کا حل بتائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues