Al-Risala · January 1997 · page 45

It is absolutely incorrect

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵

میری تقریر انگریزی میں تھی اور اس کا عنوان تھا: اسلام اور امن (Islam and Peace) حاضرین میں سے کچھ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی تقریر بہت واضح اور قابل فہم تھی۔ اس کو بہت پسند کیا گیا ۔ صدر جلسہ نے آخر میں بولتے ہوئے کہا کہ انقلاب کے بعد میں ایران گیا اور امام خمینی سے انٹرویو لیا۔ میں نے بعد از انقلاب مسائل کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ ہمارا انقلاب ابھی جاری ہے۔ وہ ابھی تکمیل کو نہیں پہنچا۔ مگر عجیب بات ہے کہ انقلاب کے 7 سال بعد آج بھی ایرانی پروفیسر وہی زبان بول رہے ہیں۔ واضح ہو کہ ایران میں " اسلامی انقلاب" جنوری ۱۹۷۹ میں آیا تھا۔

تقریر وں کے بعد سوال و جواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے۔ ایک عرب نوجوان نے میری تقریر پر بولتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے ۔ مگر امن محض امن کی باتیں کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا۔ امن کے قیام کی دو لازمی شرطیں رفع الظلم وتحقيق الحق۔ یعنی ظلم کو ختم کرنا اور حق کو قائم کرنا۔ پہلے ہم کو ظلم کا خاتمہ کر کے حق کو غالب کرنا ہو گا۔ اس کے بعد ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔

میں نے کہا کہ تشدد یا خوف کے ماحول میں کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ امن کی ضرورت اس لئے ہے کہ امن سے کام کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔ رفع ظلم یا اقامت حق کے لئے بھی اسی وقت کوئی مؤثر کوشش کی جا سکتی ہے جب کہ ماحول میں امن و امان کی فضا موجود ہو۔ جاپان کے ایک بدھسٹ نے میری تقریر پر سوال کیا کہ آپ نے کہا ہے کہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے۔ البتہ دفاعی جنگ ہے۔ مگر دفاعی جنگ سے آپ کی کیا مراد ہے۔ آجکل کے زمانہ میں ہر ملک میں ڈیفنس منسٹری ہوتی ہے۔ ایک ملک ڈیفنس کے نام پر دوسرے ملک سے جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ " دفاعی جنگ مخصوص شرطوں پر" اس کا مطلب یہ ہے کہ دفاعی جنگ بھی صرف اس وقت کی جاتی ہے جبکہ جنگ سے بچنے کی تمام ممکن کوشش ناکام ہو جائے۔ دشمن آپ کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ آپ کے لئے بچاؤ کی کارروائی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ گویا دفاع مجبورا نہ جنگ کا نام ہے اور جارحیت اقدامی جنگ کا نام۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page