Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
بھی ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
ایک فلسطینی نوجوان نے فلسطین کی آزادی کی تحریک کے لیے تطھیرالقدس من أبناء القردة والخنازير کے الفاظ استعمال کیے۔ یعنی قدس کو بندروں اور سوروں کی اولاد سے پاک کرنا۔ میں نے کہا کہ خدا کے فیصلہ کے تحت رسول اور اصحاب رسول نے ود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکالا۔ مگر اس کے لیے انھوں نے آپ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ رسول اللہ ﷺ نے سادہ طور پر فرمایا: اخرجوا اليهود والنصاری من جزيرة العرب ۔ اور آپ لوگ رسول کی اتباع کے نام پر اس قسم کی غیر شرعی اور یہ غیر اخلاقی زبان استعمال کر رہے ہیں۔
حیدر آباد کے ایک صاحب مرزا مشکور بیگ اپنے کسی کام کے تحت اسرائیل میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے کچھ تاثرات حیدر آباد کے روزنامہ سیاست (۵ نومبر (۱۹۹۵) میں چھپوائے ہیں۔ اس کا ایک جز یہ ہے : اسرائیل کے ہر باشندے کو ۱۸ سال) کی عمر ہوتے ہی ریوالور رکھنے کی اجازت ہو جاتی ہے۔ جس طرح ہمارے حیدر آباد میں ہر گلی میں ایک " شیر " ہوتا ہے جو گلے کے بٹن کھلے رکھ کر سینہ تان کر صرف کمزوروں کو دباتا ہے جس کو حیدر آبادی زبان میں " ابو شیر " کہتے ہیں۔ وہ یہاں نہیں ہے کیوں کہ ہر ایک مسلح ہے۔ کمزور بھی اور طاقت ور بھی۔ اور دونوں ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ اسرائیل میں ہر یہودی کو قانونی طور پر ریوالور رکھنے کی عام اجازت ہے مگر یہ لوگ اس کو صرف غیروں پر استعمال کرتے ہیں نہ کہ اپنے لوگوں پر۔ لیکن مذکورہ بیان کے مطابق، اس چیک کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کے پاس ہتھیار ہے۔ اگر ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا چیک بن جاتا ہو تو کراچی اور افغانستان میں یہ واقعہ کیوں نہیں پیش آیا۔ جہاں ہر ایک کے پاس ہتھیار ہونا باہمی خانہ جنگی کا سبب بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہودی ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم ہیں۔ ان کی یہی صفت اس بات کے لیے روک بن گئی ہے کہ ایک یہودی اپنا ہتھیار دوسرے یہودی کے خلاف استعمال نہ کرے۔
یہاں کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۴۹ میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تھا تا کہ یروشلم میں ایک بہت بڑا اسٹنگاگ تعمیر کیا جائے۔ یہ رقم ایک بلین امریکن ڈالر پر مشتمل تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues