Kelaty Trading Company
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
یہ پوری رقم چیف ربائی کی خدمت میں پیش کی گئی۔ لیکن چیف ربائی نے عبادت گاہ کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا : خدا ساری دنیا کا مالک ہے۔ ساری شان و شوکت اسی کے لیے ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے۔ اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جاسکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیمی ٹرسٹ بناؤ تاکہ کوئی یہودی بے علم نہ رہے۔ اس طرح دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی ٹرسٹ ۱۹۷۰ میں اسرائیل میں وجود میں آیا۔
اسرائیل میں یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔ یہاں تعلیم کو ہوا اور پانی کی طرح فری کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر فرد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ یروشلم موجودہ زمانہ میں یہودیوں کا مرکز ہے۔ یہاں بہت سے یہودیوں سے ملاقات ہوئی اور ان سے باتیں ہوئیں۔ میرا احساس یہ تھا کہ یہودی کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہیں۔ وہ بھی اسی طرح انسان ہیں جس طرح دوسرے بہت سے انسان ہیں۔ وہ بھی اپنے اندر ایک فطرت رکھتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ اختلافی زمانہ میں بھی بہت سے یہودی مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تازہ مثال پاکستان کے مشہور کھلاڑی عمران خان کی بیوی جمائما کی ہے۔ وہ لندن کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ مگر اسلام کی تعلیمات نے انھیں متاثر کیا۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس وقت وہ پاکستان میں رہ رہی ہیں۔ اور اب ان کا لباس قمیص اور شلوار اور دوپٹہ ہے۔ یہودیوں سے گفتگو کے دوران محسوس ہوا کہ ان کے بھی مفادات ہیں جس طرح ہمارے مفادات ہیں۔ تاہم وہ بھی اسی طرح عقلی دلائل کے آگے جھکتے ہیں جس طرح دوسرے انسان عقلی دلائل سن کر جھک جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے سلسلہ میں ہم کو زیادہ فطری نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی ہم انھیں "دشمن" کے روپ میں دیکھنے کے بجائے "مدعو" کے روپ میں دیکھیں ۔ اور فطرت کے اسلوب میں انھیں دین حق کا مخاطب بنائیں۔
یروشلم کے چند روزہ قیام کے دوران بہت سے ادارے اور عبادت خانے دیکھنے کا موقع ملا۔ مسلمانوں کے بھی اور غیر مسلموں کے بھی۔ میں نے پایا کہ عیسائی حضرات کے یروشلم میں کثیر تعداد میں بہت بڑے بڑے چرچ ہیں، یہاں ان کے شاندار ادارے ہیں۔ انھوں نے جلسوں اور میٹنگوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues