Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

کے لیے نہایت عمدہ قسم کے ہال بنارکھے کیں۔ مگر جہاں تک معلوم کر سکا تو فلسطینی مسلمانوں کے یہاں اس طرح جدید معیار کے اعلیٰ ادارے موجود نہیں ۔ اس کی وجہ غالباً دونوں کے مزاج کا فرق ہے ۔ عیسائی حضرات تعمیری شعبوں میں اپنے کو مستحکم بنانے میں لگے رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے ذہن سیاست اور اقتدار سے اتنا زیادہ ماؤف ہیں کہ وہ یہ سوچ نہیں پاتے کہ یہاں کوئی اور بھی کام ہے جس میں انھیں مشغول ہونا چاہیے ۔

یہ دراصل فکری پس ماندگی کی علامت ہے ۔ قدیم زمانہ میں سیاسی ادارہ ہی واحد سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا تھا ۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی ادارہ نے ثانوی حیثیت حاصل کرلی ہے باشعور قوموں نے اس تبدیلی کو جان کر اس کے مطابق اپنی تعمیر کر لی ۔ مگر مسلم رہنما اور دانشور سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے سیاست ہی چٹان سے اپنا سرٹکرا رہے ہیں۔ بے شمار قربانیوں کے باوجود وہ کوئی بھی حقیقی چیز حاصل نہ کر سکے۔

مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اکثر جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ : مَن لِلقدس ؟ یعنی کون ہے جو قدس کے لیے کچھ کرے۔ یہ جملہ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے جیسے کہ قدس کا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور وہاں کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے۔ حالانکہ یہ بات صد فیصد بے بنیاد ہے۔ ۱۹۴۸ء میں شیخ حسن البنا نے قاہرہ میں جلوس نکالا جس میں ایک لاکھ مصری شریک تھے۔ اس کا نعرہ تھا : لبيك يا فلسطين (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) پھر کئی بار باقاعدہ مسلم فوجوں نے اسرائیل سے جنگ کی۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کی عسکری تنظیمیں ہر روز قربانی دے کر اس محاذ پر لڑائی لڑرہی ہیں۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ پر جوش فلسطینی اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر اسرائیلی آبادی میں گھس جاتے ہیں۔ یہ خود کش بمبار خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور بہت سے اسرائیلیوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ وغیرہ۔

ایسی حالت میں مِنْ لِلقدس کا جذبہ باقی نعرہ سراسر بے معنی ہے۔ اس قسم کے دانش وروں بھی نہیں ہو رہی ہے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جدوجہد تو سر فروشانہ حد تک جاری ہے ۔ مگر عملاً وہ سب کی سب بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہیں ۔ یہ یہ قرآنی الفاظ میں ، حبط اعمال کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page