Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

شکار ہو رہی ہیں۔ گویا کہ جو چیز مفقود ہے وہ جد و جہد کا نتیجہ ہے نہ کہ خود جد و جہد۔ ہندستان اور اسرائیل کے وقت میں ڈھائی گھنٹہ کا فرق ہے۔ ۲۹ اگست کی صبح کو مقامی وقت کے اعتبار سے آٹھ بجے ہیں۔ میری گھڑی ہندوستان کے اعتبار سے ساڑھے دس بجے کا وقت بتا رہی ہے۔ سورج میلوں تک کے پورے ماحول کو آخری حد تک روشن کیے ہوئے ہے۔ میں اپنے کمرہ میں لگے ہوئے ’’قد دیوار‘‘ شیشوں کے پیچھے کھڑا ہوا باہر شہرِ قدس کا منظر دیکھ رہا ہوں یہ حضرت داؤد کے محل کے کھنڈر ہیں۔ یہاں حضرت سلیمانؑ کے محل کا کھنڈر تھا۔ یہ بیت القدس ہے جس کو عبد الملک بن مروان اموی نے بنوایا تھا۔ یہ وہ رومی عدالت ہے جہاں حضرت مسیحؑ کے خلاف فیصلہ سنایا گیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت مریم کی پیدائش ہوئی۔ یہ مسجد اقصی ہے جہاں پیغمبر اسلام نے تمام نبیوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کی۔ یہ مسجد عمر ہے جہاں فتح فلسطین کے بعد حضرت عمر فاروق نے نماز ادا فرمائی۔ اسی طرح پورے علاقوں میں جگہ جگہ نبیوں کے نام کی تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ سبھی مذہبی فرقے ان نبیوں اور بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، مگر یہی فرقے آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فلسطین کا مسئلہ پچھلے پچاس سال سے پوری مسلم دنیا، خصوصاً عرب دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ اس دور کا عرب لٹریچر فلسطین کی باتوں سے پُر ہے۔ لکھنے اور بولنے والوں نے نہایت جذباتی انداز میں اس پر طبع آزمائی کی ہے۔ ایک عرب شاعر الزرکلی نے کہا کہ صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لاؤ اور حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ تازہ کرو :

هاتِ صلاح الدين ثانية فينا جددي حطين او شبه حطينا ایک اور عرب شاعر احمد مطار جو آج کل لندن میں رہتے ہیں، ان کی نظم کے دو شعر یہ ہیں : المقدس للدنيا قمر في القدس قد نطق الحجر لا مؤتمر لامؤتمر انا لا اريد سوى عمر (قدس دنیا کے لیے چاند ہے۔ قدس میں پتھر بھی بول پڑا۔ مجھے کانفرنس نہیں چاہیے۔ میں تو صرف عمر کو چاہتا ہوں) مگر عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطین کے محاذ پر اب تک کچھ بھی حاصل نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ اور اس کو اسلام کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page