I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
دشمن نمبر ایک کہتے ہیں۔ اس کا سبب ، ایک فلسطینی نوجوان کے الفاظ میں یہ ہے کہ ــــــ امریکی مددہی اسرائیل کے وجود وبقا کا واحد راز ہے (الدعم الامريكى هو سر استمرار (اسرائیل وبقاءها عجیب بات ہے کہ عین اسی وقت ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کوئی براہ راست طور پر اور کوئی بالواسطہ طور پر ۔ آج بھی ایک مسلمان یہ کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے کہ میں نے امریکہ کا سفر کیا، یامیرابیٹا امریکہ میں سٹل ہو گیا ہے۔ مزید یہ کہ جو مسلمان امریکہ میں باقاعدہ بس گئے ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ان کی نئی نسل امریکی شہری ہونے پر فخر کرتی ہے۔ مکہ سے نکلنے والے العالم الاسلامی کی ( ۲۷ ذوالقعدہ ۱۴۱۶ھ) رپورٹ کے مطابق ، امریکہ کے ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں :
I am proud to be an American Muslim.
یہی دو عملی موجودہ دنیا کے مسلمانوں کی اصل کمزوری ہے۔ جس روش کو اصولی طور پر وہ ماننے کے لیے تیارنہیں، ، اسی روش کو نہایت اطمینان سے اختیار کر کے تراہ جھوٹ اور پر ہڑیاً لیے تیار ہیں، اسی روس کو نہایت اہمیاں سے تمام پوتے اور بھر کے لئے اختیار کیے ہوئے ہیں۔
عرب علاقہ میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک جگہ کچھ عرب نوجوان آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہاں کھڑے ہو کر ہم لوگ انھیں دیکھنے لگے۔ پھر میں ایک نوجوان کے قریب گیا۔ گفت گو کے دوران اس نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ صہیونی مقبوضہ فلسطین کو ایک عظیم قید خانہ میں تبدیل کر رہے ہیں (الصهاينة يحولون فلسطين المحتلة الى سجن كبير) میں نے کہا کہ آپ لوگ یہود کی طاقت کو جانتے ہیں مگر فطرت کی طاقت سے آپ لوگ بے خبر ہیں۔ اگر کوئی یہودی کہے کہ ”ہم پورے فلسطین کو ایک قید خانہ بنا دیں گے “ تو آپ کو اس کے جواب میں کہنا چاہیے کہ ایک پورے ملک کو قید خانہ بنانا کوئی سادہ بات نہیں، یہ خدا کے مقرر کیے ہوئے نظام فطرت سے لڑنا ہے۔ اور نظام فطرت سے لڑنا نہ کسی رمتی پاور کے لیے ممکن ہے اور نہ کسی سپر پاور کے لیے۔
دنیا کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی مسلمان سے بات کی جائے تو وہ فلسطینی عربوں کے اوپر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues