I am proud to be an American Muslim.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کی بات کرے گا۔ بطور واقعہ یہ بات صحیح ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس شکایت اور احتجاج کا کوئی نتیجہ ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ فلسطینی عربوں کا موقف اپنی جگہ پر درست ہے ، مگر جب وہ جنگ کی طاقت نہیں رکھتے تو وہ اپنی تحریک متشددانہ انداز پر کیوں چلاتے ہیں۔ جب کہ بار بار کے تجربہ سے معلوم ہو چکا ہے کہ وہ ایک اسرائیلی بس پر بم مارتے ہیں تو اسرائیل پوری عرب بستی پر بمباری کر کے اس کو تباہ کر دیتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کے پریسیڈنٹ نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) نے فلسطینیوں کی حمایت میں ایک بیان دیا اور حماس کے نمائندوں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو تمام عرب خوش ہو گئے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا کے ان الفاظ سے زیادہ کار آمد خود ان کا عملی نمونہ ہے۔ ان کو بھی اپنے ملک میں فلسطین جیسے حالات کا سامنا تھا۔ مگر انھوں نے اپنی پوری تحریک پر امن انداز میں چلائی۔ یہاں تک کہ وہ کامیاب ہو گئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطینیوں کو نیلسن منڈیلا کے اس تجربہ سے سبق لینا چاہیے۔
ایک بار میں نے ایک عرب اسکالر کو بتایا کہ میں ایک انٹرنیشنل پیس کانفرنس میں جانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پیس کانفرنسیں بالکل بے کار ہیں۔ یہ لوگ انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے امن قائم کرنا چاہتے ہیں حالاں کہ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ مگر یہ ایک غیر حقیقی بات ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امن کا تعلق انصاف سے نہیں ہے۔ امن کا مقصد انصاف حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف مواقع عمل تلاش کرنا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ معاہدہ کے ذریعہ امن حاصل کیا۔ حالاں کہ وہ واضح طور پر انصاف کے خلاف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انصار نے "منا امیر ومنکم امیر" کا مطالبہ واپس لے کر امن حاصل کیا۔ حالاں کہ وہ انصاف کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں جب بھی امن حاصل کیا گیا ہے، انصاف کے سوال کو نظر انداز کر کے حاصل کیا گیا ہے۔ انصاف تو اس جد و جہد کا ثمرہ ہے جو امن کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ وہ خود امن کے اندر براہِ راست طور پر شامل نہیں ہوتا۔ سفر کے دوران ایک فلسطینی عرب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے امن کی اہمیت پر زور دیا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues