Al-Risala · September 1997 · page

I am proud to be an American Muslim.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

اور تشدد کو بے فائدہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ہم تشدد کے خلاف ہیں۔ مگر ہم امن چاہتے ہیں جو عدل کے ساتھ ہو (نحن نبذ ا للعنف وللننان نريد سلاما عادلا )

یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے طبقہ کا نظریہ ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی زبان میں یہی بولی بول رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسلم انگریزی میگزین (ریڈینس ۳۰- مارچ ۱۹۹۶) نے اس موضوع پر ایک پر جوش آرٹیکل شائع کیا ہے ۔ اس کا خلاصہ مذکورہ میگزین نے اپنے ٹائٹل کے اوپر اس طرح جلی حرفوں میں نمایاں کیا ہے ________ امن بغیر انصاف ، دور کا خواب ہے :

یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں مگر عملی اعتبار سے وہ سراسر بے معنی ہیں۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں امن کبھی بھی نظری انصاف کی بنیاد پر نہیں ملتا، حتی کہ پیغمبر کو بھی نہیں۔ امن یہاں جب بھی کسی کو ملتا ہے صورت موجودہ پر راضی ہونے کی بنیاد پر ملتا ہے نہ کہ بوقت صلح غیر حاصل شدہ انصاف کو حاصل کرنے کی بنیاد پر۔ پیغمبر کی زندگی میں اس کی ایک واضح مثال حدیبیہ کا معاہدہ شدہ انصافی توحا مل کرنے کی بنیاد پر۔ پیغمبرانہ رمندی ہیں۔ اس کی دال ماں نے حدیبیہ کا معاہدہ امن ہے۔ اس کا حصول صرف اس وقت ممکن ہو سکا جب کہ پیغمبر نے صورت موجودہ (اسٹیٹس کو) پر اپنی رضا مندی ظاہر کردی۔

۱۹۱۷ء میں برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا جو عام طور پر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے ۔ اس تقسیم میں فلسطین کا صرف ایک تہائی حصہ اسرائیل کو دیا گیا تھا اور اس کا دو حصہ عربوں کے لیے خاص کیا گیا تھا جس میں پورا کا پورا یروشلم بھی شامل تھا مگر اس وقت کی مسلم قیادت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک عرب عالم نے اس کو قبول کر لینے کی بات کہی تو اس پر عرب مفاد سے غداری کا الزام لگایا گیا چنانچہ وہ شخص یہ شعر کہہ کر مر گیا ۔ عنقریب میری قوم جان لے گی کہ میں نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے ۔ اور رات خواہ کتنی ہی لمبی ہو جائے صبح بہر حال آکر رہتی ہے :

سیعلم قومی اننی لا اغشُّھم و مهما استطال اللیل فالصبح واصل اُس وقت کی مسلم قیادت نے اگر اسٹیٹس کو (حالت موجودہ) کو قبول کر لیا ہوتا تو فلسطینیوں کی حالت

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page