Al-Risala · September 1997 · page

I am proud to be an American Muslim.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

آج سو گنا بہتر ہوتی۔ مزید یہ کہ وہ اس ناقابل بیان تباہی سے بچ جاتے جو پچھلے پچاس سال سے جاری ہے اور ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ نزاعی مسائل کو حل کرنے کا واحد ممکن فارمولا یہی ہے۔ دسمبر ۱۹۹۶ء میں میری ملاقات اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار سے ہوئی ۔ انھوں نے ذاتی ملاقات میں مجھ سے پوچھا کہ اجودھیا اور کشمیر کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ میں نے کہا، دونوں کے لیے واحد نکاتی فارمولا صرف ایک ہے ـــ حالت موجودہ کو قبول کرلیجیے۔

I have one-point formula for both-accept the status quo. فلسطینیوں نے یاسر عرفات کی قیادت میں اسرائیل کے یہودیوں سے جو صلح ستمبر ۱۹۹۵ء میں کی ہے اس پر مسلم دنیا میں مختلف رائیں ظاہر کی گئی ہیں۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ ابن باز نے اس کو درست قرار دیا ہے۔ اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ قرآن کے مطابق یہودیوں سے مودت اور موالات جائز نہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ ابن باز نے کہا ہے کہ یہودیوں اور دوسرے کافروں سے صلح ان کے ساتھ مودت اور موالات کو لازم نہیں کرتی (الصلح مع اليهود أو مع غيرهم من الكفرة لا يلزم مودتهم ولا موالاتهم) الدعوہ، ریاض ۲۵ شعبان ۱۴۱۵ھ / جنوری ۱۹۹۵ء شیخ ابن باز کے اس فتوے سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی گروہ خواہ بظاہروہ دشمن اسلام کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ معاہدہ ان کے ساتھ مودت اور موالات کو مستلزم نہیں ہوگا۔ دو چیزوں میں فرق کرتے ہوئے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ دیکھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت ہے اور اس پر آپ نے بار بار عمل فرمایا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ایک حکمت حیات ہے، اور اس حکمت کی رعایت کیے بغیر اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی نہیں ہوسکتی ۔

پی ایل او جس کو تقریباً . . . . ۵م فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم بتایا جاتا ہے، وہ ۱۹۶۴ء میں قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد اس کے ابتدائی چارٹر کے مطابق یہ تھا ــــ اسرائیل کا استیصال اور صهیونی تحریک کا مکمل خاتمه۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page