Al-Risala · September 1997 · page

I am proud to be an American Muslim.

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

مگر عملاً بالکل بر عکس صورت پیش آئی ۔ یہاں تک کہ یہ تحریک اپنے اعلان کردہ مقصد میں اس سند کا نام ، ہوئی دھیریب ۲۵ اپریل ۱۹۹۶ کو حسین ، میل تو جل کی میٹنگ عنازہ پٹی میں ہوئی۔ اس میں اتفاق رائے سے قدیم چارٹر کی اس دفعہ کو سرے سے حذف کر دیا گیا۔

مسلم پریس نے عام طور پر یاسر عرفات کے زیر قیادت فلسطینی تنظیم کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک یہی قابل مذمت فعل ان دوسرے مسلم رہنماؤ ں نے بھی عملاً کر رکھا ہے جو ابھی تک مسلم پریس میں قابل تعریف سمجھے جاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں نے یہی کیا ہے کہ ابتداء وہ "باطل کی کامل تخریب" کے پر شور نعروں کے ساتھ اٹھے اور اب انھیں لوگوں نے ہر جگہ اس باطل کے ساتھ موافقت کا انداز اختیار کر رکھا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فلسطینی قیادت نے پسپائی کا یہ فیصلہ اعلان کے ساتھ کیا، جبکہ بقیہ مسلم رہنما بلا اعلان اسی مصالحانہ روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔

پاکستانی اخبار نوائے وقت کے شمارہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۶ء میں ایک خبر جلی سرخیوں کے ساتھ نظر سے گزری۔ انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس کے خاتمہ پر حماس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ایک اعلان کیا گیا جو مذکورہ اخبار میں اس سرخی کے ساتھ چھاپا گیا : یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے ۔

میں نے اس خبر کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ اعلان ادھورا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس کا اعلان مکمل طور پر ان الفاظ میں ہونا چاہیے : یہودیوں کو سکون کی نیند نہیں سونے دیں گے، خواہ ہم کو وہ موت کی نیند سلا دیں۔

ایک صاحب کو مجھ سے کافی عقیدت ہے۔ کانفرنسوں میں کئی بار ان سے ملاقات ہو چکی ہے ۔ اس بار ملاقات ہوئی تو انھوں نے جلدی سے میرا ہاتھ چوم لیا۔ اس کو دیکھ کر ایک بزرگ نے فرمایا: کیا یہ اسلام میں جائز ہے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزیں ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں ۔ ان کا جائز اور ناجائز سے کوئی تعلق نہیں۔

ابن کثیر نے باب "فتح بیت المقدس علی یدی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ " کے تحت لکھا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page