We are all members of one large human family.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
عمر جب شام پہنچے تو ابو عبیدہؓ اور دوسرے سردار ان سے ملے۔ مثلاً خالد بن الولیدؓ، یزید بن ابی سفیان۔ پھر ابو عبیدہ سواری سے اتر کر پیدل چلے اور عمر بھی سواری سے اتر کر پیدل چلے ــــــ پھر ابو عبیدہ نے اشارہ کیا تاکہ عمر کا ہاتھ چومیں، تو عمر نے چاہا کہ ابو عبیدہ کا پاؤں چوم لیں۔ چنانچہ ابو عبیدہ رک گئے اور عمر بھی رک گئے (البدایہ والنہایہ ۵۵/۷) ۲۹ اگست ۱۹۹۵ کی صبح کو افتتاحی اجلاس تھا۔ وہ یروشلم کے نوٹر ڈیم (Notre Dame) ہال میں ہوا۔ اسٹیج کے پیچھے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے :
Community of St. Egidio International Meetings: People and Religions Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems معاًفی القدس : یہوداہ ومسیحین ومسلمین تقریروں کا خلاصہ یہ تھا کہ تینوں مذہب (یہودیت، مسیحیت، اسلام) کو پر امن طور پر مل کر رہنا چاہیے۔ کیوں کہ ہم ایک وسیع انسانی برادری کے افراد ہیں :
We are all members of one large human family.
یہودی مقرر نے کہا کہ ہم روزانہ اپنی تین وقت کی عبادت میں اور دوسرے مواقع پر شلوم“ کہتے ہیں جس کا مطلب امن ہے۔ اس نے کہا کہ امن یہودیت کا بنیادی اصول ہے۔ امن ہے تو سب کچھ ہے، امن نہیں تو کچھ بھی نہیں :
With peace every thing, without peace nothing.
شیخ عبد السلام مدیر اوقاف القدس نے اپنی تقریر میں اسٹیج کو منبر الحب کہا۔ ان کا عربی لہجہ بہت اچھا معلوم ہو رہا تھا۔ انھوں نے موضوع سے متعلق قرآن کی مختلف آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔ انھوں نے کہا کہ قدس کا نام ہی بتاتا ہے کہ اس علاقہ کو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا چاہیے۔ آیت لایشال عھد الظالمین کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو عہد پر قائم رہے اس کے لیے خدا کا وعدہ ہے جو عہد سے نکل جائے وہ اس سے نکل گیا " شرع من قبلنا شرع لنا ما لم ينسخ " پچھلی شریعت بھی ہماری شریعت ہے، جب تک وہ منسوخ نہ ہو۔ جہاد کے معنی کوشش (بذل الجھد) کے ہیں۔ اگر قولی دعوت کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو تو قتال نہیں ہے۔ لیکن
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues