Al-Risala · January 1997 · page 47

خبرنامه اسلامی مرکز، 11

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

جواب میں کہا گیا کہ اس مسئلہ کا حل ایک نیا قانون بنانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے ذہن کو درست کرنا ہے۔ ہفت روزہ تیسرا راستہ کے زیر انتظام غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۶ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان تھا : حالات حاضرہ اور صحافتی ذمہ داریاں، مسلم مسائل کے پس منظر میں۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسلمانوں کو یہ شکایت اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے کہ ہندو پریس مسلمانوں کے بارہ میں متعصب ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہندو پریس ہو یا مسلم پریس، دونوں تجارتی پریس ہیں۔ ہر ایک تجارتی مفاد کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے نہ کہ تعصب یا غیر تعصب کی بنیاد پر۔

بھارتیہ ودیا بھون (نئی دہلی) میں ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۶ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا عنوان تھا : اچھی حکومت کیسے بنتی ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ پہلے ہم کو اچھا سماج بنانا پڑے گا اس کے بعد ہی وہاں اچھی گورنمنٹ بن سکتی ہے۔

ٹی وی ٹوڈے کی ٹیم نے ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۶ کو دور درشن کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ پورا انٹرویو اسلام پر تھا۔ اسلام کی تعلیمات کے مختلف پہلو قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائے گئے۔ یہ انٹرویو کئی قسطوں میں دور درشن کے صبح کے پروگرام میں دکھایا جائے گا۔

ڈویلپنگ کنٹریز ریسرچ سنٹر (یو جی سی) کے تحت جہیز وغیرہ کے مسائل پر ایک ریسرچ کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۶ کو مسز ناظمہ احمد نے ٹیلی فون پر اسلامی نقطہ نظر جاننے کے لیے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ بتایا گیا کہ جہیز کی مروجہ شکل سراسر غیر اسلامی ہے۔ البتہ بلا مطالبہ اور غیر نمائشی طورپر سادہ قسم کی کچھ ضروری چیزیں دے دی جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

ایک نئی کتاب زیر طبع ہے جس کا نام ’دین انسانیت‘ ہے۔ اس میں اسلام کو امن اور رحمت اور انسانیت کے دین کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page