سفر نامہ فلسطین ۷
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴
دیر کی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت کی بات دراصل اسی ظاہر پرستی کو توڑنے کے لیے فرمائی۔ آپ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہود کی ربوبی میں جو ظہران کے بات پر تبت پر نہیں ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق یہ عادت م یہود کی طرح نہ ہو جاو، جو ظاہر کے اہتمام کو دین سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے تم داخلی روح کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرو، کیونکہ وہی اصل مطلوب ہے۔
ابو عبیدہ بن الجراح کی قیادت میں شام فتح ہوا تھا۔ اس کے بعد ابو عبیدہ نے عمرہ (۲۹) الصله کی سرداری میں ایک لشکر فلسطین بھیجا۔ یہاں اس وقت رومی (بازنطینی) سلطنت تھی۔ رومی لشکر کاسر دار ارطبوون تھا۔ مقابلہ میں رومی لشکر کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد وہ بیت المقدس (یروشلم) میں قلعہ بند ہو گیا۔ عمروبن العاص نے اس کا محاصرہ کر لیا۔ آخر کار وہ لوگ مجبور ہو گئے اور صلح کی پیش کش کی۔ البتہ یہ شرط رکھی کہ خلیفہ خود مدینہ سے یروشلم آئے۔ حضرت عمر فاروق مدینہ سے روانہ ہو کر جابیہ پہنچے۔ پھر وہاں سے یروشلم گئے۔ جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت ہوئی، اس معاہدہ کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کی دفعات میں سے ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان کے عبادت خانے ڈھائے نہیں جائیں گے اور نہ ان میں کوئی کمی کی جائے گی اور نہ ان کے دین کے معاملہ میں ان پر کوئی جبر کیا جائے گا (لا تهدم كنائسهم ولا ينتقص منها ولا يكرهون على دينهم)
حضرت عمر فاروق یروشلم کے کنیستہ القیامہ میں داخل ہوئے۔ عصر کی نماز کا وقت آ گیا تو آپ نے نماز پڑھنا چاہا۔ پادری نے کہا کہ یہیں پڑھ لیجئے مگر حضرت عمر نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ بلکہ باہر نکل کر چبوترا پر اکیلے نماز پڑھی۔ یہ دیکھ کر پادری نے کہا کہ اگر آپ چرچ کے اندر نماز پڑھ لیتے تو مسلمان اس کو نظیر بنا لیتے اور کہتے کہ یہاں خلیفہ عمر نے نماز پڑھی ہے۔ جنرل وایزمان اسرائیل کی کیبنٹ کا ایک منسٹر تھا۔ وہ مصر سے دوستی کی باتیں کرتا تھا۔ ایک صاحب نے اس کا قول عربی میں اس طرح نقل کیا کہ اعتماد باہمی مفاہمت کی کنجی ہے اور وہ تمام مشکلات کے حل کا راستہ ہے (الثقة هي مفتاح التفاهم والوصول الى حلول للمشاكل) یہودیوں کا ایک گروہ اس کی مصروستی " کی بنا پر اس سے ناراض تھا۔ ان لوگوں نے وایز مان کا لقب مسٹر ایجپٹ (Mr. Egypt) رکھ دیا تھا۔ اب اس کا تقابل مسلمان، خاص طور
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues