سفر نامہ فلسطین ۷
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵
پر برصغیر کے مسلمانوں سے کیجئے۔ سرسید نے انگریزوں سے مفاہمت کی بات کی تو یہاں کے مسلمانوں نے ان کو مسٹر انگلینڈ نہیں کہا، بلکہ ان کو انگریزوں کا نمک خوار اور دشمنوں کا ایجنٹ مسلمانوں نے ان کو سر اسٹیلینڈ نہیں کہا ، بلکہ ان کو انگریزوں کا نمک خوار اور دشمنوں کا ایجنٹ کہا۔ اسی طرح مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوؤں سے مفاہمت کی بات کی تو ان کو بھی مسٹر انڈیا کہنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ انھیں ہندوؤں کا ایجنٹ اور ملت فروش بتایا گیا ، وغیرہ۔
یہ بھی شاید ایک پہلو ہے اس حدیث کا جس میں آپؐ نے یہ خبر دی کہ ـــــــــ یہود میری سمجھ میں آیا کہ ہر جگہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جو تباہ کن جھگڑے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف باہر والوں کی شرکت سے پیدا ہوتے ہیں۔ جھگڑا پیدا ہونے کے بعد اگر معاملہ صرف مقامی لوگوں تک محدود رہے تو دونوں فریق فطرت کی رہنمائی میں کام کرتے ہیں اور مل جل کر مسئلہ کو حل کر لیتے ہیں۔ مگر جب جھگڑا باہر کے ”لیڈروں“ کے ہاتھ میں چلا جائے تو بات بگڑ جاتی ہے۔ اور معمولی نزاع ناقابل حل مسئلہ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ فلسطین کے مقامی مسئلہ کو سب سے پہلے افواہوں نے عالمی مسئلہ بنایا۔ ۱۹۴۸ میں شیخ حسن البنا نے جذباتی نعرے، تقریریں کر کے قاہرہ میں ایک لاکھ مصریوں کو جمع کیا اور قاہرہ کی سڑکوں پر لبیک یا فلسطین لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔ یہ بیرونی دخل اندازی بڑھتی رہی۔ مگر اس کے نتیجہ میں عملاً جو ہوا وہ صرف یہ کہ ذلت اور ناکامی میں ناقابل تلافی حد تک اضافہ ہو گیا۔
ترکی خلافت کے لیے ہندستان میں دھواں دھار تحریک چلانا، پاکستان کے لیے ان علاقوں میں ہنگامہ کھڑا کرنا جہاں پاکستان بننے والا نہ تھا۔ بابری مسجد کو اجودھیا کے دائرہ سے نکال کر سارے انڈیا بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بنانا۔ بوسنیا کے سوال کو مقامی مسلمانوں اور مقامی عیسائیوں سے بڑھا کر سارے عالم کے مسلمانوں کا سوال بنا دینا۔ یہ قیادت نہیں ہے بلکہ صرف نادانی ہے۔ اور اس نادانی نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues