Al-Risala · October 1997 · page 6

سفر نامہ فلسطین ۷

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۶

یروشلم میں ایک اسلامک آرٹ میوزیم ہے۔ اس میں ساتویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک کے ”اسلامک آرٹ“ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی کے ساتھ اسلامی علوم کی ایک لائبریری بھی ہے جس میں قیمتی کتابیں جمع کی گئی ہیں۔

اس میں ایک قیمتی تصویر ہے۔ اس تصویر میں مغل حکمراں شاہ جہاں کو اپنے تخت پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا کر رہا ہے۔ تصویر زبان حال سے کہہ رہی ہے ـــــــــ میں اگرچہ بادشاہ ہوں۔ مگر خدا کے آگے میں بھی عام انسانوں کی طرح ایک محتاج انسان ہوں۔

اسی طرح اس میں کلیلہ و دمنہ کا ایک فارسی نسخہ ہے۔ اس میں کلیلہ و دمنہ کے واقعات کو رنگین تصویروں کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ وغیرہ۔

کویت کے عربی ہفت روزہ المجتمع (۴ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ، یکم اگست ۱۹۹۵ء) میں المحامی خالد سیف (کردستان، العراق) کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے قبۃ الصخرۃ اور المسجد الاقصیٰ کی تصویریں چھاپی ہیں۔ اور لکھا ہے کہ دونوں واضح طور پر الگ الگ عمارتیں ہیں۔ مگر ۸۰٪ فی صد مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ایک ہیں اور جو قبۃ الصخرۃ ہے وہی مسجد اقصیٰ ہے (ان ۸۰٪ من المسلمين يعتقدون بان مسجد قبة الصخرة هو المسجد الاقصى) عجیب بات یہ ہے کہ خود مذکورہ مضمون نگار نے بھی قبۃ الصخرہ کو ”مسجد قبۃ الصخرۃ“ لکھا ہے، حالاں کہ وہ سرے سے مسجد ہے ہی نہیں۔

انھوں نے لکھا ہے کہ جب بھی مسجد اقصیٰ یا فلسطین کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن فوراً سنہری رنگ کے قبۃ الصخرہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا کے ذرائع اعلام جب بھی فلسطین کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیشہ وہ قبۃ الصخرہ کی تصویر دکھاتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود فلسطینی بھی اپنے جلسوں میں جو لوح لگاتے ہیں اس پر بھی قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں فلسطین کے موضوع پر ایسی کتابیں چھپی ہیں جن کے ٹائٹل پر قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ اور اس کے نیچے لکھا ہوا ہے : وا اقصاہ۔ مضمون نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایسا یہودی سازش کے تحت ہو رہا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page