سفر نامہ فلسطین ۷
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۸
دیوارِ گریہ (Wailing Wall) کا دوسرا نام مغربی دیوار (Western Wall) ہے۔ رومیوں نے اس کو ۷۰ء میں تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کی صرف ایک دیوار کا کچھ حصہ باقی رومیوں نے اس کو ۷۰ء میں تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس کی صرف ایک دیوار کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا جو ابھی تک موجود ہے۔ اس سے ملی ہوئی اور اس کے اوپر وہ اونچی فصیل تعمیر کی گئی ہے جو مسجد اقصیٰ کا احاطہ کیے ہوئے ہے :
The wall now forms part of a larger wall that surrounds the Muslim Dome of the Rock and Al-Aqsa mosque. (EB/X/627)
اس دیوار کی لمبائی ۱۶۰ فٹ ہے اور وہ ۶۰ فٹ اونچی ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ خدا کی رحمت کبھی بھی مغربی دیوار سے جدا نہیں ہوتی۔ یہود بڑی تعداد میں یہاں دعا مانگنے کے لیے آتے ہیں۔ مصری لطیفہ بنانے میں بہت مشہور ہیں۔ انھوں نے ایک لطیفہ بنایا کہ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر جب یروشلم گئے تو اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم مناہن بیجن ان کو لے کر دیوارِ گریہ کے پاس گئے۔ یہودیوں کی نظر میں یہ ان کی سب سے زیادہ مقدس جگہ ہے۔ وہاں پہنچ کر جمی کارٹر نے دعا کی۔ انھوں نے اپنی دعا میں کہا کہ اے خدا! عربوں کو اور اسرائیل کو امن تک پہنچنے میں مدد دے۔ بیجن جو پاس ہی کھڑے تھے، انھوں نے فوراً کہا آمین۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے کہا کہ خدایا! مصر کو اور اسرائیل کو پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی توفیق دے۔ بیجن نے کہا آمین۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے کہا کہ خدایا! اسرائیلیوں کو بتا دے کہ وہ عربوں کو وہ تمام علاقے واپس کر دیں جن پر انھوں نے ۱۹۶۷ کی جنگ میں قبضہ کیا ہے۔ یہ سنتے ہی بیجن کا لہجہ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ جناب صدر، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ ایک دیوار سے بات کر رہے ہیں۔
یہ لطیفہ خود عربوں کا مرثیہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ۱۹۶۷ تک جو علاقے انھیں حاصل تھے، ان کو انھوں نے کیوں کر کھو دیا۔ یہ صرف اپنی پر جوش حماقت سے۔ مصر کی عرب قیادت نے اولاً سوئز کو قبل از وقت قومی ملکیت میں لینے کا احمقانہ اقدام کر کے سارے یورپ کو اپنا مخالف بنا لیا۔ اس کے بعد صحرائے سینا سے اقوام متحدہ کے مشاہدین کو واپس کر کے اسرائیل کے لیے اقدام کے دروازے کھول دیے۔ اس طرح کی کچھ اور نادانیوں نے اسرائیل کو موقع
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues