Al-Risala · October 1997 · page 14

Global business is our future.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴

اس کے علاوہ ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس زمانے میں اردو کے مشہور شاعر اور ادیب یہودی میوزیم (Diaspora) کے ناظم نے اپنے ادارہ کا تعارف کرتے ہوئے پر فخر طور پر کہا کہ دلائی لاما تک اسرائیل آئے تاکہ یہ دیکھیں کہ یہودیوں نے وہ کون سا طریقہ نکالا جس کے ذریعہ وہ اتنی لمبی مدت تک اپنی قومی شناخت کو برقرار رکھ سکیں :

میں خود اریحا (Jericho) نہ جا سکا۔ ایک کرسچین سیاح جو اریحا (مسلم علاقہ) میں گیا تھا۔ اس نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ سرحد پر زبردست پہرہ ہوگا۔ لیکن مجھے تعجب ہوا جب میں نے دیکھا کہ وہاں ایک گارڈ ہے جس کو ہماری جانچ سے کوئی دل چسپی نہیں۔ اس نے شلوم کہہ کر ہمارا استقبال کیا :

فلسطین کا ایک حصہ صحرا ہے۔ یہ صحرا ہزاروں سال سے یوں ہی پڑا ہوا تھا موجودہ زمانہ میں یہ معلوم ہوا کہ پانی سے محرومی کسی زمین کو ریگستان بناتی ہے۔ اگر پانی فراہم کیا جا سکے تو ریگستان کو سرسبز علاقہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہودی نے اس نئی دریافت سے فائدہ اٹھایا اور فلسطین کے صحرائی علاقہ کے بڑے حصہ کو کھیت اور باغ میں تبدیل کر دیا۔ ایک اسرائیلی نے اپنے مضمون میں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فخر کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم نے ڈرپ آبپاشی کے طریقہ کو ترقی دے کر ریگستان کو سرسبز و شاداب بنا دیا :

ایک سیاح جس نے فلسطین کے صحرائی علاقہ کو دیکھا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم یہاں آئے تھے کہ صحرا کو دیکھیں گے مگر یہاں ہمیں سبزہ دیکھنے کو ملا :

یہاں ایک ہوٹل الحمراریستوراں (Alhambra Restaurant) کے نام سے ہے۔ وہ جافا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page