لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
ہوتا ہے کہ ان لکھنے والوں کو قدس کے حقیقی مسئلہ کی خبر نہیں۔ مثال کے طور پر مکہ سے نکلنے والے ماہنامہ الرابطہ کے شمارہ ۳، ۴ میں ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے حول قضیۃ القدس۔ یعنی بیت المقدس کے مسئلہ کے بارہ میں ۔ اس مضمون کے ساتھ ایک تصویر سایا ماں طور پر چھاپی گئی ہے جو یہاں نقل کی جاتی ہے۔ یہ تصویر واضح طور پر قبتہ الصخرة کی ہے مگر اس کے نیچے لکھا ہوا ہے : مسجد اقصیٰ کو عرب سیادت کے تحت واپس لانا بالکل صر ہے۔ جب میں دہلی سے یروشلم کے لیے روانہ ہوا تو میرے ذہن میں سر المقدس اور مسجد اقصیٰ کی واضح تصویر نہ تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید دونوں ایک ہی ہیں۔ چنانچہ ماں کی کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے میں نے جو پیپر تیار کیا اس میں بھی میں نے مسجد اقصیٰ لکھ کر کے آگے بریکیٹ میں بیت المقدس لکھ دیا تھا۔ گویا کہ دونوں ایک ہی ہیں۔
یہ غلط فہمی کوئی انفرادی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۹۹ فی صد مسلمان اس معاملہ میں اسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ دونوں کے بارے میں کوئی واضح شعور نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ یہ غلط فہمی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس امت کا معاملہ مستقیم رہے گا یہاں تک کہ،
لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues