لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱
قیامت آجائے۔ دوسری کتب حدیث میں بھی یہ روایت الفاظ کے فرق کے ساتھ آئی ہے۔ الاوسط للطبرانی میں یہ الفاظ ہیں : يقاتلون على ابواب بيت المقدس وما حوله لا يضرهم مَن خذ لهم ظاهرين الى يوم القيامة (فتح الباری ۳۰۸/۱۳) یعنی امت کے یہ اہل حق بیت المقدس کے دروازوں پر اور اس کے آس پاس قتال کریں گے ۔ ان کا کوئی حریف انھیں نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔ ایک اور روایت : لا تزال عصابة من امتى يقاتلون على امر الله قاهرين لعدوهم لا يضرهم من خالفهم حتى تأتيهم اس روایت میں قتال سے مراد جنگ نہیں ہے ، بلکہ غیر حربی کوشش ہے۔
(فتح الباری ۳۰۶/۱۳)
اس سے معلوم ہوا کہ بیت المقدس کے علاقہ میں ابدی طور پر مسلمانوں کا غلبہ مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، حکومت اسرائیل کے قیام کے باوجود اس غلبہ کو قائم رہنا چاہیے۔
قرآن میں دو جگہ یہود کے ایک مخصوص گروہ (نہ کہ تمام یہودی نسل) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مسلسل سرکشی اور نافرمانی کی پاداش میں ان پر لعنت کی اور ان کو ذلیل و خوار بندر بنا دیا (سورۃ البقرۃ آیت ۶۵ ، سورۃ الاعراف آیت ۱۶۶) سورۃ المائدۃ کی آیت ۶۰ میں یہ اضافہ ہے کہ اس گروہ کو بیک وقت بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ البتہ اس سلسلہ میں ابتداء سے مفسرین کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ بندر اور خنزیر بنا دینے سے کیا مراد ہے۔ بعض اس کو حقیقی جسمانی تبدیلی (physical transformation) کے معنی میں لیتے ہیں اور بعض اس کو مجازی طور پر صرف فکری اور مزاجی تغیر (moral metamorphosis) قرار دیتے ہیں۔
مشہور تابعی مجاہد کا قول ہے کہ اصلاً ان کے دل مسخ کیے گئے نہ کہ خود ان کو (جسمانی اعتبار سے) بندر بنا دیا گیا۔ یہ عین اسی طرح کی ایک تمثیل ہے جیسی تمثیل یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الجمعہ ۵) میں بیان کی ہے کہ وہ ” اس گدھے کی مانند ہیں جو اپنے اوپر کتابوں کا بوجھ لادے ہوئے ہو“ (مُسخت قلوبهم ولم يمسخوا قردةً۔ ۔۔ وإنما هو مثل
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues