Al-Risala · October 1997 · page 28

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸

اس معاملہ کی پوری تفصیل میں نے اپنی کتاب دین کامل میں کی ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ الدین الکامل کے نام سے قاھرہ سے چھپ چکا ہے۔

ایک فلسطینی نوجوان نے کویت کی دستوری تحریک کا حوالہ دیا کہ اس نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ٹررزم میں اور قبضہ کے خلاف مقاومت میں فرق کیا جائے جو کہ قوموں کا جائز حق ہے (الحركة الدستورية الاسلامية فى الكويت طالبت بالتفريق بين الارهاب و حق الشعوب فى مقاومة الاحتلال)

میں نے کہا کہ اس قسم کے فرق دماغوں میں ہوتے ہیں وہ عملی زندگی میں نہیں ہوتے اور جب دو فریق کے درمیان نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو اسلام اور عقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت ذہنی معیار کو پس پشت ڈال کر یہ دیکھا جائے کہ عملی صورت حال کے مطابق کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔

میں نے کہا کہ عملی بنیاد پر مذکورہ فیصلہ کو میں درست سمجھتا ہوں، آپ اگر ذہنی معیار پر اصرار کریں گے تو آپ وہ تو نہیں پائیں گے جو آپ پانا چاہتے ہیں۔ البتہ جو کچھ آپ کو ملا ہوا ہے اس کو بھی آپ کھو دیں گے۔

عرب اخبارات و رسائل اس قسم کے عنوانات سے بھرے رہتے ہیں :

بقاء القدس فى يد اسرائيل يعنى ان الاستعمار الصهيوني قائم (قدس کا اسرائیل کے ہاتھ میں باقی رہنا یہ معنی رکھتا ہے کہ صہیونی استعمار قائم ہے) مدينة القدس الشريف تناديكم (قدس آپ کو پکار رہا ہے)

ان العرب سيرمون اسرائيل فى البحر (عرب اسرائیل کو سمندر میں پھینک دیں گے) القدس الشريف : بين مؤامرة التهويد وطمس هويتها الاسلامية (قدس تھویدی سازش اور اس کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش کے درمیان) (مدد سے مزید ریدہ کار اور اس کے اخلاق حسنہ کے مابین)

روشنل میں مسمیٰ اقدس برق یہ ایک ٹریکٹر میں بڑا کہ مسکی اور دکن سے امین کے ہائی کلام یروشلم میں مسجد اقصی کے قریب ڈیڑھ ایکڑ کے رقبہ میں ایک مسجد اور مرکز ہے۔ اس کا نام زاویۃ الفریدید یہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کے ایک صوفی بابا فرید گنج شکر چار سو سال پہلے یہاں زیارت کے لئے آئے تھے۔ اس وقت فلسطین میں عثمانی ترکوں کی حکومت

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page