لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹
تھی۔ ترک گورنر نے بابا فرید کو مسجد کے دو کمرے دے دیے۔ بعد کو ہندوستانی نوابوں کے تعاون سے کچھ اور عمارتیں یہاں بنائی گئیں۔
سہارن پور کے خواجہ نذیر حسن انصاری کو اس وقت کی ہندوستانی حکومت نے ۱۹۲۲ میں یہاں سے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھیجا تھا۔ ۱۹۵۳ میں ان کی وفات ہوگئی۔ اب ان کے پوتے نذر حسن انجینئر اس وقت کے ٹرسٹی ہیں۔ انڈیا سے اس ٹرسٹ کو چھ ہزار روپے سالانہ کی امداد دی جاتی ہے۔
یروشلم کی موتمر کا دعوت نامہ مجھے مل چکا تھا کہ اس کے بعد فروری ۱۹۹۴ میں میرا ایک سفر رباط (المغرب) کے لیے ہوا۔ وہاں الجزائر کے ڈاکٹر محمد السلیمانی سے ملاقات ہوئی۔ ان سے ذکر ہوا تو انھوں نے کہا کہ آپ کو یروشلم کی موتمر کا دعوت نامہ ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا وہاں جانا اسرائیل کی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ میری تمنا تھی کہ میں قدس میں داخل ہو کر اللہ کے لیے سجدہ کروں ، جہاں پیغمبروں نے سجدہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی نیت کچھ بھی ہو مگر عملاً تو وہ اسرائیل کی تصدیق بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ طرز فکر سراسر ایک غیر مسنون طرز فکر ہے۔ قدیم مکہ میں تقریباً وہی صورت پیش آئی جو موجودہ زمانے میں فلسطین میں پیش آئی ہے۔ قریش نے رسولؐ اور اصحابِ رسولؐ پر سخت مظالم کیے ، یہاں تک کہ ان کو ان کے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا ، اور پھر مکہ کے اوپر اپنا محرمانہ اقتدار قائم کر لیا۔ اس کے بعد یہ واقعہ ہوا کہ مکہ میں دشمنانِ اسلام کا اقتدار برقرار رہتے ہوئے رسولؐ اور اصحابِ رسولؐ نے عمرہ کے لیے مکہ کا سفر کیا۔ پہلی بار اہل مکہ نے داخل نہیں ہونے دیا تو اگلے سال دوبارہ سفر کیا اور مکہ میں داخل ہو کر کعبہ کا طواف کیا جس میں اب ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے اور پھر کسی احتجاج یا ٹکراؤ کے بغیر مدینہ واپس گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوچ وہ ہوتی جو آپ حضرات کی سوچ ہے ، یعنی مکہ میں داخلہ کو آپ دشمن کے اعتراف کے ہم معنی سمجھتے تو آپ کبھی بھی مکہ میں داخل نہ ہوتے۔ اس واقعہ سے رسول اللہؐ کی ایک خاص سنت اخذ ہوتی ہے۔ اور وہ ہے دو چیزوں کو ایک دوسرے میں نہ ملانا۔ پس یہ بھی رسول اللہؐ کی ایک سنت ہے کہ دو مختلف چیزوں کو ایک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues