لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰
دوسرے سے مختلط نہ کیا جائے (عدم الخلط بين الشيئين هو سنة من سنن الرسول) میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگوں کی سوچ منفی سوچ ہے۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے معنوں میں مثبت انداز میں سوچتے تھے (طريقتكم في التفكير سلبية والرسول كان يفكر بطريقة ايجابية بكل معنى الكلمة)
ایک زمانہ تھا کہ عرب دنیا میں الاخوان المسلمون کے سیاسی فکر کی دھوم تھی مگر اب اس فکر کی سطحیت لوگوں پر واضح ہونے لگی ہے۔ چنانچہ اہل علم میں اس کے ناقدین پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک صاحب نے مصر کے دکتور عبدالصبور مرزوق (پیدائش ۱۹۲۵) کا قول سنایا کہ کیا یہ بے معنی نہیں ہے کہ ہم اسلامی حکومت کا مطالبہ کریں اور حال یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہاتھ نیچے کا ہاتھ بنا ہوا ہے۔ وہ خوراک اور ہتھیار اور کپڑے اغیار سے مانگتا ہے۔ ہم ہر معاملہ میں دوسروں کے محتاج ہیں۔ اور اگر وہ چاہیں تو اپنی گاڑیاں ہمیں نہ دیں اور ہم دوبارہ گدھے اور خچر کی سواری کی طرف لوٹ جائیں :
اليس من العبث ان نطالب بدولة اسلامية ويد المسلمين السفلى تطلب من غيرها الطعام والسلاح والملابس ونظل عالة على غيرنا ولو شاؤا حبسوا عنا السيارات مثلا ورجعنا للبغال والحمير - میں نے کہا کہ یہ درست ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان علم سے لے کر کردار تک ایک پچھڑی ہوئی قوم بن چکے ہیں۔ مفت کے پٹرو ڈالر سے حاصل کی ہوئی ظاہری چمک دمک کو ہٹا دیجئے تو اندر سے وہ ہر اعتبار سے کھوکھلے نظر آئیں گے۔ ایسی حالت میں حکومت اور خلافت کی باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے نہ کہ کوئی حقیقی کام۔
ایک سنجیدہ قسم کے عرب عالم سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا : هم يحلّون العقدة بطريقة تجعل العقدة الواحدة عقدتين (وہ گرہ کو اس طرح کھولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک گرہ کو دو گرہ بنا دیتی ہے)
میں نے کہا کہ یہی بات برصغیر ہند کے تمام مسلم رہنماؤں پر صادق آتی ہے۔ ہر ملی گرہ جس
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues