لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
کو کھولنے کے نام پر وہ اٹھے اس نے ایک گرہ کو کئی گرہ بنا دیا۔ تقسیم کی تحریک ، شاہ بانو تحریک ، بابری مسجد تحریک ، اس کی قریبی مثالیں ہیں ۔
یروشلم کی کانفرنس میں شرکت کے لیے روم سے بار بار ٹیلی فون آئے ۔ میں وہاں جانے کے لیے صرف اس لیے تیار ہوا تھا کہ اس طرح مجھ کو مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا موقع ملے گا ۔ تاہم ایک خدشہ بھی لگا ہوا تھا۔ عرب اخبارات مسلسل اس کی جو تصویر پیش کر رہے تھے ، اس سے میں نے سمجھا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے چاروں طرف اسرائیل کی بہت بڑی فوج کھڑی ہوئی ہوگی۔ اور عین ممکن ہے کہ وہ مجھے اندر داخل ہونے کی اجازت ہی نہ دیں اور میں نامراد ہو کر وہاں سے لوٹ آؤں۔
عرب اخبارات نے اس معاملہ میں اتنا غلو کیا ہے کہ انھوں نے فرضی تصویریں چھاپ کر پورے معاملہ کو غلط رنگ میں پیش کیا (اس کی کچھ تفصیل اس سفرنامہ میں موجود ہے) جہاں تک میں نے سمجھا ہے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی اصلاً سیاسی دشمنی ہے نہ کہ دینی دشمنی۔ مگر فلسطینیوں نے اور عربوں نے انتقامی جذبہ کے تحت دونوں میں فرق نہیں کیا۔ انھوں نے اسرائیل کو اپنا سیاسی دشمن بتانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مذہبی اعتبار سے خود اسلام کا دشمن ہے۔ ان حضرات کے یہ بیانات قرآن کے اس حکم کے خلاف ہیں کہ دشمنی کے وقت بھی انصاف کی روش پر قائم رہو (المائدہ ۸) یروشلم کی کانفرنس میں شرکت پر مجھ کو کئی سخت تبصرے سننے پڑے۔ ایک صاحب نے کہا۔ آپ بھی آخر کار یہودی سازش کا شکار ہو گئے :
You too at last fell victim to Zionist Conspiracy. میں نے کہا کہ آپ لوگ کتنی آسانی سے اس طرح کے جملے کسی کے بارہ میں بول دیتے ہیں۔ حالاں کہ وہ اسلام میں جائز ہی نہیں۔ اس طرح کے تبصرے محض ظن و قیاس ہیں نہ کہ دلیل۔ ظن کی بنیاد پر آپ کسی کے بارہ میں اچھی رائے تو ظاہر کر سکتے ہیں، مگر ظن کی بنیاد پر بری رائے ظاہر کرنا یقینی طور پر حرام ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کے بارے میں اس طرح کا جملہ نہیں کہا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues