Al-Risala · October 1997 · page 32

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲

عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں پر یہودی سازش کا تصور اس طرح غالب ہے کہ وہ ہر واقعہ میں یہودی سازش کو کام کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ موجودہ صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی خلافت یہودیوں کی سازش سے ختم ہوئی۔ اقبال کا شعر ہے :

چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ حیرت ہے کہ یہ بات وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو حکمت قرآن (Quranic Wisdom) کے علم بردار ہیں۔ حالاں کہ یہ بات قرآن کی تردید کے ہم معنی ہے۔ قرآن میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر تم تقویٰ اور صبر کرو تو دشمنوں کی سازش ہمیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گی (آل عمران ۱۲۰) اس قرآنی ارشاد کی روشنی میں ہمیں ملی مصائب کے بارہ میں کہنا چاہیے کہ وہ ہمارے اندر تقویٰ اور صبر کے فقدان کا نتیجہ تھا نہ کہ حقیقۃً کسی کے سازشی منصوبہ کا نتیجہ۔ ایک عرب عالم سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمان کیوں ایسا کر رہے ہیں کہ ہر جگہ حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کر کے اپنے آپ کو مروا رہے ہیں۔ اس قسم کی ہلاکت خیز پالیسی تو نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔

انھوں نے کہا کہ جب اہل حق سے ان کا حق چھینا جائے گا تو لازم ہے کہ وہ اس کو واپس حاصل کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ لوگ جب ہر قسم کا علاج کر چکے ہوتے ہیں تو آخر میں وہ داغنے والے طریق علاج کو استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ایک غیر پسندیدہ علاج ہے۔ ہم نے موجودہ طریقہ کو اسی وقت اختیار کیا جب کہ ہم مجبور ہو گئے۔ مشکل کو وہی اختیار کرتا ہے جو مضطر ہو: اذا سُلب اهل الحق حقهم فلابد ان يستعيدوه - واذا اضطر الناس الى استنفاد كل وسائل العلاج فإن آخر العلاج الكي ، ولو انه علاج غير مستحب۔ ولن نلجأ اليه الا إذا اضطررنا ، فلا يركب الصعب إلا المضطر۔

میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں تشدد کا طریقہ علاج نہیں ہے بلکہ وہ خودکشی ہے۔ اور عملاً آج یہی ہو رہا ہے۔ انھوں نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر یہ مسلمان کیا کریں۔ میں نے کہا کہ انھیں دو میں سے ایک کام کرنا چاہیے۔ یا تو وہ سیاسی اقتدار کے مسئلہ کو علیٰ حالہ چھوڑ کر دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page