مرغ بسمل چوں بہ دام افتد تحمل بایدش
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳
غیر سیاسی میدانوں میں تعمیر و ترقی کی جدوجہد کریں جس کا میدان ہر ملک میں پوری طرح موجود ہے۔ اور اگر بالفرض وہ سیاسی جدوجہد ہی کو ضروری سمجھتے ہیں تو بم اور گن سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے خالص پُر امن انداز میں اپنی تحریک چلائیں۔ جیسے انڈیا میں مہاتما گاندھی نے اور ساؤتھ افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے کیا۔ مسلمان پر تشدد جدوجہد کا طریقہ چھوڑ کر پُر امن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر لیں۔ میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں کا کیس اضطرار کا کیس نہیں ہے، وہ غلط چوائس لینے کا کیس ہے۔ ان کے لیے ایسر کو اختیار کرنے کا موقع پوری طرح موجود تھا۔ مگر انھوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت اس کو اپنے لیے اختیار کر لیا۔ حالانکہ وہ واضح طور پر سنت رسولؐ کے خلاف ہے۔
اورنگ زیب نے اپنے باپ شاہ جہاں کو ۱۶۵۸ء میں گرفتار کر لیا، اور آگرہ کے قلعہ میں اس کو قید کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شاہ جہاں نے پریشانی کا خط لکھ کر اورنگ زیب کے پاس بھجوایا۔ اورنگ زیب نے اس کے جواب میں فارسی کا ایک مصرع لکھ کر بھیج دیا زخمی چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے :
مرغ بسمل چوں بہ دام افتد تحمل بایدش
اس کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ حقیقت پسندی سے کام لیجئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کا معاملہ جو اتنا زیادہ بگڑ گیا اس کا سبب یہی تھا کہ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں نے حقیقت پسندی سے کام نہیں لیا۔ حسن البنا سے لے کر یاسر عرفات تک بلا استثناء ہر عالم اور ہر قائد اس معاملہ میں غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی دیتا رہا۔ یہاں تک کہ مسلمان ذلت اور تباہی کی آخری حد پر پہنچ گئے۔
۱۹۴۸ میں اقوام متحدہ نے جو تقسیم کی تھی اس میں فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ عربوں کے پاس تھا۔ اسی کے ساتھ پورا یروشلم بھی انھیں حاصل تھا۔ مگر مسلم قیادت نے پر جوش طور پر اس تقسیم کو نامنظور کر دیا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان لامتناہی جنگ چھڑ گئی جس کا سارا فائدہ یہودیوں کو ملا اور سارا نقصان مسلمانوں کے حصہ میں آیا۔ اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جاتا تو کرنے کا کام یہ تھا کہ فلسطین کے ملے ہوئے حصہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues