مرغ بسمل چوں بہ دام افتد تحمل بایدش
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴
عربوں کی حکومت قائم کی جائے ۔ اور اس کے یہودی حصہ میں مسلمان سیکولر شہری بن کر اسی طرح تعمیر و ترقی کے کام میں سرگرم ہو جائیں جس طرح لاکھوں عرب آج بھی غیر مسلم ملکوں میں تعمیر و ترقی کے عمل میں مصروف ہیں ۔
ایک وقت تھا کہ مصر کے فوجی صدر جمال عبدالناصر اور دوسرے لوگ یہ کہتے تھے کہ عرب اسرائیل کو سمندر میں پھینک دیں گے (ان العرب سیرمون اسرائیل في البحر) لیبیا کے کرنل معمر القذافی اتنے جوش میں تھے کہ انھوں نے اپنے ساتھی مسٹر جلو کو یہ کہہ کر اسپیشل جہاز سے چین بیچ دیا جائے اورایم بم خرید کر لایا تالۂ اس نواسہ ائیل کے اوپر گر کر الہ ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ یاسر عرفات اور دوسرے تمام لیڈر اسی قسم کی پرجوش بولی بول رہے تھے۔ مگر آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔ یاسر عرفات پچھلی سیٹ پر چلے گئے ۔ یہاں لیبیا سے قریبی واقفیت رکھنے والے ایک صاحب نے کہا کہ کل کے معمر قذافی کے مقابلہ میں آج کے قذافی مکمل طور پر بدل چکے ہیں (القذافی الیوم يختلف تماما عن قذافی الامس)
یہ بات خود قذافی کی طرف سے پریس میں آچکی ہے ۔ المجلہ کے نمائندے ، عبدالرحمن الراشد اور عبد اللطیف المناوی نے لیبیا جا کر معمر قذافی کا ایک انٹرویو لیا ۔ ایک سوال کے جواب میں قذافی نے کہا کہ پہلے ہم آزادی فلسطین کے بارہ میں جنگ کی باتیں کیا کرتے تھے۔ لیکن انقلابات کی صورت حال نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں جس چیز کو بدلنا ہے وہ خود ہمارا طریق کار ہے۔ (یعنی بات چیت کا طریقہ)۔ جہاں تک جنگ فلسطین کا معاملہ ہے تو اس سلسلہ میں جنوبی افریقہ کو دیکھیے۔ جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا ۔ آزادی فلسطین کے لیے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں، اگر فلسطینی لوگ اپنی سر زمین میں واپس آجائیں اور ان کی ۵ یا ۶ ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظامِ حکومت میں شرکت پر راضی ہو جائے تو آخر کار ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا (الر ساله مئی ۱۹۹۵)
اس سے پہلے قذّافی مسلح جدوجہد کے زبردست حامی تھے۔ حتی کہ انھوں نے اپنی قوم کو یہ گانا سکھایا که إحنا شر آًبون دم - مگر ہلاکت خیز تجربے کے بعد اب نہ صرف قذّافی بلکہ فلسطین کے یاسر عرفات سے لے کر فلپائن کے نور سواری تک ہر ایک مسلح جدوجہد کی بولی چھوڑ کر پرامن جدوجہد کی بولی بول رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues