'It would cost me my chair.'
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۶
وہ چند سال تک اس قسم کے سخت الفاظ بولیں اور اس کے بعد مکہ تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائیں۔
کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے ــــ یہ مثل ایسے ہی مسائل کے لیے بنائی گئی ہے، اور بلاشبہ ایسے مسائل کا اس سے بہتر کوئی حل نہیں۔ ۱۹۷۸ء کے اوآخر میں مصر کے مقتول صدر انور سادات نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پیش قدمی کی۔ جس کے نتیجہ میں بالآخر فریقین نے اس معاہدہ پر دستخط کیے جو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس سلسلہ میں مصر اور اسرائیل کے درمیان چرمت ہوئی اس کی سرپرستی سابق امریکی صدر جی کارٹر (Jimmy Carter) نے کی تھی۔ نیز انھیں کے حسب منشاء، معاہدہ کا آخری مسودہ تیار کیا گیا ، جس کا پورا نام یہ تھا : A Framework for Peace in the Middle East Agreed at Camp David اس معاہدہ کی دفعہ نمبر (c) مغربی کنارہ اور غازہ پٹی میں فلسطینیوں کی حکومت خود اختیاری (Self-governing authority) کے بارہ میں تھی۔ مگر اس کی عبارت نہایت مبہم اور بالواسطہ انداز میں (ب اسلوب غامض و غیر مباشی) لکھی گئی تھی۔ اس وقت محمد ابراہیم کامل مصر کے وزیر خارجہ تھے۔ اسی کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران وہ سادات کے خصوصی ایڈوائزر بھی تھے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اس پہلو پر توجہ دلاتے ہوئے سادات سے کہا کہ معاہدہ میں یہ بات بالکل واضح اور براہ راست الفاظ میں درج ہونی چاہیے کہ فلسطینی مقررہ حدود کے اندر اپنی آزاد اور خود مختار حکومت کی تشکیل کا حق رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں سادات نے کہا کہ خود مجھے اس کا احساس ہے اور اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے میں نے جی کارٹر سے بات چیت بھی کی تھی۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اسے یوں ہی رہنے دیا جائے ۔ کیونکہ اس کو بدلنے کی صورت میں مجھے اس کی قیمت اپنی کرسی صدارت سے ادا کرنی پڑے گی :
'It would cost me my chair.'
( السلام لصنائع في اتفاقیات کامب دیفیر ، مطبوعات ادارۃ الشرق الاوسط، صفحہ ۶۰۳)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues