'It would cost me my chair.'
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۷
آج انسان کھلے طور پر ایک حق کا اعتراف اس لیے نہیں کرتا کہ اس کے نتیجہ میں وہ دنیا کے وقتی اور محدود اقتدار کی کرسی سے محروم ہو جائے گا۔ حالاں کہ مرنے کے بعد جب انسان یہ دیکھے گا کہ مقتدرِ اعلیٰ کے دربار میں سچائی کی کرسی (مقعدِ صدق) پر صرف وہی لوگ بٹھائے گئے ہیں، جنہوں نے دنیا میں اعلانِ حق کی خاطر اپنی ”کرسی“ کھو دی تھی۔ تو وہاں وہ اپنی کرسی اور اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جائے گا۔ مگر اس وقت اس کے حصہ میں حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں آئے گا کیوں کہ آخرت کی کامیابی کے لیے وہی قربانی مطلوب ہے جو دنیا میں پیش کی گئی ہو۔ آخرت کے لیے آخرت میں قربانی کی پیش کش خود اپنے خلاف حجت قائم کرنا ہے۔ یہ انسان کو عذاب کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام و اکرام کا۔
ایک عرب اسکالر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ مختلف ملکوں کے بارے میں عالمی سطح پر جو تازہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، ان میں تمام عرب ممالک کو بلا استثناء علمی اعتبار سے فاقہ زدہ (الدُّوَلُ الجَائِعَةُ عِلمِيّاً) قرار دیا گیا ہے جب کہ ان کے مقابلہ میں اسرائیل کو جدید ٹکنالوجی کا حریص ملک (دولة نهمة تكنولوجياً) بتایا گیا ہے۔ یہی فرق ایک لفظ میں عربوں کی ہر محاذ پر مسلسل شکست کا واحد سبب ہے۔ قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ آج ”لاٹھی“ کی جگہ سائنس اور ٹکنالوجی نے لے لی ہے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں ”بھینس“ پر براہِ راست یا بالواسطہ قبضہ اسی کا ہوتا ہے جس کے پاس سائنس اور ٹکنالوجی کی طاقت ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں سائنس کو طاقت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ ایسی حالت میں سائنس میں پس ماندہ قوم کا برتر قوم سے جنگ کرنا صرف خودکشی ہے نہ کہ جہاد فی سبیل اللہ۔
ایک یہودی سے گفتگو ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور عربی زبان اچھی جانتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ پورے علاقہ پر اسرائیلی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں مدینہ اور خیبر بھی شامل ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اسرائیل کی کوئی قومی پالیسی نہیں۔ کچھ یہودی انفرادی طور پر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔
پھر اس نے کہا کہ بالفرض یہودیوں کا ایسا ہی خیال ہو تب بھی آپ لوگ اس کو اتنا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues