Al-Risala · October 1997 · page 38

'It would cost me my chair.'

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸

زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں۔ ہم کو دیکھئے۔ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا نشانہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے وہ ہدف الاخوان ھو ( اقامة دولة الاسلام العالمية ) اس کے مطابق ، نہ صرف اسرائیل کو اسلامی حکومت کا جزیہ گزار بننا ہے بلکہ ہم دنیا کے جس حصہ میں بھی ہوں ہر جگہ ہمیں اسلامی حکومت کا ماتحت بننا پڑے گا ۔ مگر ہمیں اس قسم کی باتوں پر کوئی پریشانی نہیں ۔

میں نے پوچھا کہ آپ کے پریشان نہ ہونے کی وجہ کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ الاخوان المسلمون مصر میں ۱۹۲۸ میں قائم ہوئی ۔ اس طرح اس کے قیام کو تقریبا ستر سال ہو رہے ہیں ۔ ستر سال کے عرصہ میں وہ خود اس نے ملک مصر میں بھی اتنے تصور کی اسلامی حکومت قائم نہ کر سکی۔ پھر اس رفتار سے پوری دنیا کو اسلام کا سیاسی ماتحت بنانے کے لیے تو سات ہزار سال بھی ناکافی ہیں۔ ایسی حالت میں ہم ابھی سے اس کے لیے کیوں پریشان ہوں ۔ قرآن میں واقعہ اسراء کے ذکر کے تحت ارشاد ہوا ہے : سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى الذي باركنا حوله لنريه من آياتنا ( بنی اسرائیل (۱) اس آیت میں ایک سوال یہ ہے کہ لريه من آياتنا (تاکہ رسول کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) سے کیا مراد ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کو بار کرنا سے جوڑا ہے۔ یعنی قدس کے آس پاس کی برکتیں دکھائیں۔ لیکن زیادہ صحیح رائے ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس کو اسریٰ سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد آپ کو ایک رات میں مکہ سے مسجد اقصی لے جانا ہے جو ایک مہینہ کی مسافت پر واقع ہے (اسراؤه من مكة الى المسجد الاقصى في ليلة وهو مسيرة شهر) القرطبي ۲۱۴/۱۰ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس آیت میں ایک اہم سبق تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم دانش وروں اور مسلم علماء نے نہ اس کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کر سکے۔ یہ اسراء دراصل فطرت کے اس عظیم امکان کو دکھانا تھا جس کو ہم تیز رفتار کمیونی کیشن کہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور کے سب سرسدا کے گئے ۔ اس لیے ہیں ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دور کے سرے پر پیدا کیے گئے۔ اس لیے آپ کو مخصوص اہتمام کے تحت اس فطری طاقت کو پیشگی طور پر دکھا دیا گیا۔ تاکہ آپ کی امت اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page