Al-Risala · October 1997 · page 39

'It would cost me my chair.'

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹

سے آشنا ہو جائے اور جب یہ امکان اپنی پوری شکل میں ظاہر ہو تو اس کو دین کی خدمت میں استعمال کر سکے۔

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں اور مسلم دانش وروں نے قدس کے سیاسی پہلو کو دیکھا، مگر اس سے وابستہ وسیع تر اور عظیم تر پہلو (جدید کمیونی کیشن) کی حقیقت کو وہ سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست کی چٹان سے تو وہ نصف صدی سے ٹکرا رہے ہیں مگر کمیونی کیشن کی جدید طاقت کو دینِ حق کے لیے استعمال کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔

پاکستان کے لوگ پاکستان کو ملکِ خداداد کہتے ہیں۔ مثلاً لاہور کے ایک اسلامی ماہنامہ (اپریل ۱۹۹۶) میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قیام اللہ کی ایک آیت اور معجزہ ہے۔ اس کی پشت پر اکابرین ملت کی چار سو برس کی کوششیں ہیں۔ پاکستان خدائی تدبیر کے تحت وجود میں آیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ پاکستان جو اسلام کے لیے بنا تھا وہ اسلام کو چھوڑ کر سیکولرزم کی طرف بگٹٹ رواں دواں ہے۔ اسی رسالہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان مکمل طور پر یہودی نرغہ میں ہے۔ یہودی سازشوں نے اس کا رخ اسلام کے بجائے سیکولرزم کی طرف کر دیا ہے۔ حالاں کہ اس کے بعد پاکستان کے علاحدہ ملکی وجود کا کوئی جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ یہ رسالہ قرآنک وزڈم کا علم بردار ہے۔ مگر مذکورہ بات کا قرآنک وزڈم سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں کہ قرآن میں تو یہ تصور دیا گیا ہے کہ خدا کی تدبیر ہر مخالف تدبیر پر بالا ثابت ہوتی ہے ، وان کان مکرهم لتزول منه الجبال۔ مگر پاکستان کے قرآنی دانشور یہ خبر دے رہے ہیں کہ پاکستان میں نعوذ باللہ خدائی تدبیر پر یہودی تدبیر غالب آگئی۔

کہنے والے ایسی عجیب بات کیوں کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس کا سبب خود تشکیل پاکستان میں ہو سکتا ہے۔ اور جب آدمی ایک غلطی کو نہ مانے تو اپنی غلطی کو درست کرنے کے لیے وہ مزید ایسی غلطیاں کرتا ہے جو پہلے سے بھی زیادہ غیر معقول ہوتی ہیں۔

مولانا محمد علی جوہر کی قبر یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے قریب ہے۔ مولانا محمد علی گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ہوئے تھے۔ اس وقت وہ بیمار تھے۔ چنانچہ لندن کے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page