سوئے گردوں رفت زاں راہی کہ پیغمبر گذشت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۰
ہوٹل میں ۴ جنوری ۱۹۳۱ اکوان کا انتقال ہو گیا۔ ہالی ڈے پارک (محمد علی پارک) میں نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پھر سمندری جہاز کے ذریعہ ان کی میت لندن سے یروشلم لائی گئی جو کہ ایک تابوت میں بند تھی۔ جب ان کی میت پورٹ سعید پہنچی تو مصر کے وزیرِ اعظم آئے اور میت کو مسجد عباس میں لے گئے۔ وہاں دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔ شہزادہ محمد علی نے غلافِ کعبہ کا ایک ٹکڑا تابوت پر رکھا۔ اس کے بعد جب میت یروشلم پہنچی تو جنازہ میں تقریباً دو لاکھ آدمی شریک تھے۔ مفتی اعظم آگے آگے چل رہے تھے۔ مسجد اقصیٰ پہنچ کر جنازہ کی آخری نماز ادا کی گئی مولانا محمد علی کی سوانح عمری میں یہ الفاظ درج ہیں: ” اولین قبلہ اسلام کا سینہ پھٹ گیا اور وہ اس میں سما گیا۔ ان کے جسدِ خاکی کی آخری آرام گاہ وہ ارضِ قدس ہوئی جس کو قرآن نے الذی باركنا حولہ کہا ہے“ اس تدفین پر اقبال نے کہا :
سوئے گردوں رفت زاں راہی کہ پیغمبر گذشت
قرآن میں ہے کہ لقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم (الانبیاء ١٠) اس کی تشریح سہل بن عبد اللہ نے کی ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر قرآن اتارا۔ اس میں وہ عمل بتایا گیا ہے جس میں تمہارے لیے زندگی ہے (العمل بما فیہ حیاتکم) القرطبی ۲۷۳/۱۱ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق، یقیناً فلسطین کے مسئلہ کا حل بھی قرآن میں مذکور ہونا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ اس معاملہ میں واضح رہنمائی قرآن میں موجود ہے، اور وہ یہ آیت ہے : ان یمسسکم قرح فقم مس القوم قرح مثلہ وتتلک الایام نداولھا بین الناس (آل عمران ۱۳۰)
اس آیت میں اسلامی تاریخ کے اس واقعہ کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کو بدر کے دن مشرکوں کے اوپر غالب کیا۔ اس کے بعد احد کے دن اللہ نے ان کے دشمنوں کو ان کے اوپر غلبہ دے دیا (اظهر الله عز وجل نبيد صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ علی المشركين يوم بدر و اظهر عليهم عدوهم يوم (احد) تفسیر الطبری ۴/ ١٠۵ اس وقت مسلمانوں میں غم اور مایوسی کے جذبات پیدا ہوئے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ آخرت کی نعمتیں تو صرف اہلِ ایمان کے لیے ہیں۔ مگر دنیا کا نظام امتحان اور
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues