مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱
آن۔ الیکٹرک اصولی طور پر قائم کیا گیا ہے جس کے یہاں غریب اور مغلوب سیرت کا تجربہ جاری ہے اور آزمائش کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہاں غلبہ اور مغلوبیت کا تجربہ باری باری ہر ایک کو کرایا جائے گا، تاکہ ہر ایک کی ہر پہلو سے آزمائش ہو سکے (تلك الايام نداولها بين الناس)
یہی بات ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں کہی ہے کہ ـــــــــ دانشمند چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے :
مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش
تھا کا مطا س ان ان ہی نہیں س بلکہ اس کا مطا س کا جز اتنی دعا س بج کر صاران منصوبہ بندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
موجودہ زمانہ میں تمام مسلم دانشور اور رہنما فلسطین کی بازیابی کے مسئلہ کو ملت مسلمہ کا مسئلہ نمبر ایک بتاتے ہیں۔ مگر عین اسی وقت تمام دنیا کے مسلمان باہمی لڑائیوں میں اپنی بہترین طاقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس میں متشددانہ جنگ اور غیر متشددانہ جنگ دونوں شامل ہیں۔ مزید ستم یہ ہے کہ ہر ایک اپنے کو خادم دین اور مجاہد اسلام سمجھ رہا ہے۔ ایران اور عراق دونوں مسلسل فلسطین کے خلاف پر شور بیان دیتے رہتے ہیں۔ مگر دونوں آٹھ سال (۱۹۸۰-۱۹۸۸) تک خوں ریز قسم کی باہمی لڑائی لڑتے رہے۔ اس جنگ کے زمانہ کے ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے حامی کہا کرتے تھے کہ قدس کا راستہ بغداد ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر ببغداد) عین اسی وقت عراقی لیڈر صدام حسین کے حامی بلند بانگ طور پر یہ کہتے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر بطهران) دوبارہ صدام حسین نے ۱۹۹۰ میں کویت پر فوج کشی کر دی۔ اب صدام حسین کے حامی یہ کہنے لگے کہ قدس کا راستہ کویت ہو کر جاتا ہے (الطریق الی القدس یمر بالکویت) اس قسم کے الفاظ فلسطین کے مسئلہ سے دلچسپی کا ثبوت نہیں ہیں۔ بلکہ صرف مسلم رہنماؤں کی استحصالی ذہنیت کا ثبوت ہیں۔ یہ صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتے ہیں، وہ ان کو کسی انعام کا مستحق نہیں بناتے۔
۳۱ اگست ۱۹۹۵ کی شام کو واپسی ہوئی۔ یروشلم سے تل ابیب تک کا راستہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues