Al-Risala · October 1997 · page 45

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵

دوران پرواز اسرائیلی ایئر لائنز (El Al) کا میگزین بابت جولائی۔ اگست ۱۹۹۵ء دیکھا۔ اس میں کثرت سے مکانات کے اشتہار تھے۔ مختلف کمپنیوں کے بنائے ہوئے مکانات کی خوب صورت تصویریں، اور ان کے نیچے اس طرح کے خوش کن الفاظ لکھے ہوئے تھے : Your dream home in Israel یا یہ کہ اس خوب صورت کامپلیکس میں اپنے لیے ایک اپارٹمنٹ حاصل کیجئے اور دنیا کی جنت میں رہنے کا لطف اٹھائیے۔ میں نے ایک اسرائیلی مسافر کو یہ اشتہارات دکھا کر اس کا تاثر پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہم نے خوب صورت قسم کے رہائشی مکانات تو ضرور بنا لیے ہیں۔ مگر ایک نامعلوم خوف ہر یہودی کے دماغ میں ہوتا ہے کہ کیا معلوم، کب کہاں ایک بم پھٹ جائے۔ میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں پر مسرت زندگی ممکن ہی نہیں۔ یہاں ہر حال میں کوئی نہ کوئی حزن لگا رہتا ہے۔ اس لیے حقیقی معنوں میں پر مسرت زندگی صرف آخرت کی جنت ہی میں ممکن ہے۔ جہاں خدا اپنی برتر طاقت سے حزن کو حذف کر دے گا (اذهب عنا الحزن (فاطر ۳۴) بمبئی ائیر پورٹ پر مسز سوزن جیکب (Ms Susan Jacob) نے پریشان کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی کمپنی کا ایک نوجوان آیا۔ اس نے اپنا نام نیویل مستری (Naville Mistry) بتایا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کا باپ پارسی ہے اور اس کی ماں کیتھولک عیسائی ہے، ماں کے اثر سے لڑکا بھی عیسائی ہو گیا ہے۔ اس نوجوان نے ائیر پورٹ پر میری رہنمائی کی۔ اس نے میرا بیگ اصرار کر کے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مجھ کو آخری گیٹ تک پہنچایا۔

سفر سے واپسی کے بعد مولانا انیس لقمان ندوی کا خط (۸ جولائی ۱۹۹۶) ملا۔ وہ آجکل ابوظبی میں مقیم ہیں۔ یہ خط فلسطین کے مسئلے سے متعلق ہے اس لیے اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے : ابوظبی میں قیام کے دوران پچھلے چھ مہینوں میں سو سے زیادہ عربوں سے ملاقات ہوئی۔ جن میں مقامی باشندوں کے علاوہ مصر، فلسطین، شام اور دیگر ملکوں سے آئے ہوئے (وافدین) بھی شامل ہیں۔ ان کے ساتھ جن موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ان میں مسئلہ فلسطین سر فہرست ہے۔ جس شخص نے بھی عربی جرائد و مجلات اور عالم عرب میں چھپنے والی جدید کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتا ہے کہ فلسطین پر یہود کا قبضہ عرب دنیا کا واحد سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page