Al-Risala · October 1997 · page 46

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۶

اب تک میرا احساس یہ تھا کہ قبلۂ اول (بیت المقدس) کو اسلام میں جو مقام حاصل ہے اس نے فلسطین کو اتنا زیادہ اہم اور سنگین مسئلہ بنا دیا ہے۔ بلکہ فلسطین کے مسئلہ پر بولنے اور لکھنے والا ہر شخص خواہ وہ عرب ہو یا غیر عرب عام طور پر یہی سمجھتا ہے کہ آزادی فلسطین کے لیے عربوں کے مجاہدانہ جوش و خروش کا اصل محرک دینی اور اسلامی ہے۔ مگر عربوں کے ساتھ رہنے اور قریب سے ان کی نفسیات اور مزاج کا تجزیہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاد فلسطین‘‘ کا حقیقی محرک دینی حمیت یا اسلامی غیرت سے زیادہ عربوں کی قومی نخوت اور نسلی تفاخر ہے۔

مسئلہ فلسطین غالباً واحد مسئلہ ہے جس کے بارہ میں عرب دنیا کا تقریباً ہر شخص حساس ہے۔ بلکہ یہی ایک معاملہ ایسا ہے جس میں وہاں کا سیکولر اور اسلام پسند طبقہ دونوں ایک دوسرے کا ہمنوا ہے حالاں کہ دوسرے تمام معاملات میں ان کا حال یہ ہے کہ پہلا گروہ دوسرے کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا الزام دیتا ہے تو دوسرا گروہ پہلے کو کافر اور ملحد قرار دیتا ہے۔ اگر آزادیٔ فلسطین کا اصل محرک اسلامی غیرت وحمیت کو قرار دیا جائے تو پھر اس واقعہ کی توجیہہ نا ممکن ہو جاتی ہے کہ کیوں ایسے لوگ ہی اس "جہاد" میں اسلام پسندوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں جنھیں یہ کافر اور ملحد سمجھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ حسن البنا اور شاہ فیصل کی طرح عرب حکام اور عوام دونوں کے درمیان ایک تعداد ایسے افراد کی پائی جاتی ہے جن کے لیے فلسطین پر یہودی قبضہ ان کی دینی غیرت کو چیلنج ہے اور فلسطین کی بازیابی کے لیے کوشش کرنا ایک اسلامی ذمہ داری۔ مگر عربوں کی اکثریت کے لیے یہ حقیقتہً عرب قومیت (العروبۃ) کو چیلنج کرنے کا مسئلہ ہے۔ یہ بات ان کے لیے حد درجہ نا قابل برداشت ہے کہ یہود، جو تعداد میں انتہائی قلیل ہیں اور سیکڑوں برس تک ان کے محکوم رہے ہیں، وہ ان کے اپنے ایک ملک پر اس طرح قابض ہو جائیں کہ بقیہ ممالک کے لیے ان کا وجود خطرہ بن جائے۔ عربوں کی قومی نخوت اس کا تحمل نہیں کر سکتی کہ وہ یہود کے مقابلہ میں پست ثابت ہوں یا یہود ان کے پڑوس میں ان کے ہم سطح اور ہمسری کی حیثیت سے آزادانہ زندگی گزاریں۔ ایک لفظ میں یہ کہ اصل مسئلہ یہودی نسل پرستی (صہیونیت) کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page