Al-Risala · October 1997 · page 47

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۷

بالمقابل عرب قومیت (العروبة) کی بالادستی کے درمیان کشمکش کا مسئلہ ہے۔ چونکہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس تک یہود کے اوپر عرب کا غلبہ اور تسلط رہا ہے۔ اس صدی کے نصف اول تک عرب دنیا میں یہود کی حالت کم و بیش وہی تھی جو قرآن کے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ”حتیٰ یعطوا الجزیۃ عن ید وھم صاغرون“ مگر جب حالات بدلے اور نئے دور میں طاقت اور غلبہ کے جدید وسائل کو بروقت استعمال کر کے یہود نے داخلی طور پر اپنے آپ کو مستحکم کر لیا۔ جب کہ عرب دنیا ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ اور بالآخر یہود فلسطین کے اوپر قابض ہو کر عربوں کے لیے مستقل خطرہ بن گئے تو نہایت شدت کے ساتھ ان کے قومی جذبات بھڑک اٹھے۔ ذہنی اور نفسیاتی طور پر وہ سخت تناؤ اور جھنجلاہٹ اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے۔ اسی جھنجلاہٹ اور احساس کمتری کو دور کرنے کے لیے وہ ایک طرف اپنے عظیم ماضی کا تذکرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف یہود کو احفاد القردہ والخنازیر (بندر اور خنزیر کی اولاد) اور اسی طرح کے دوسرے حقارت آمیز ناموں سے پکارتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ یہود کو اپنے ماضی کے آئینہ میں دیکھ کر یہ جھوٹی تسکین حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں ان کے اوپر برتری اور بالادستی حاصل رہی ہے۔ مگر وہ اپنے حال کا تقابل یہود کے حال سے نہیں کرتے۔ کیوں کہ ایسا کرنے میں ان کے اندر جھنجلاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ ان کی قومی نخوت اس واقعہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی غفلت اور دوسروں کی زمانہ شناسی کے نتیجہ میں (احفاد القردة والخنازیر) کہیں براہ راست ان کے اوپر غالب ہیں اور کہیں بالواسطہ طور پر مسلط ہیں۔

آج کل عرب دنیا کی اسلامی تنظیموں خصوصاً آزادی فلسطین کے لیے سرگرم تنظیم حركة المقاومة الاسلامية (حماس) میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس تنظیم کے افراد اپنے جسم پر بم باندھ کر دشمن کے کسی ٹھکانے یا کسی اہم سرکاری یا عسکری اہمیت کے حامل دفتر میں کود پڑتے ہیں، ان کے جسم سے بندھا بم جب پھٹتا ہے تو وہ خود تو ہلاک ہوتے ہی ہیں مگر اپنے ساتھ دشمن کے بھی بہت سے افراد اور املاک کو تباہ کر دیتے ہیں۔ عام آدمی اگر ایسا عمل کرے تو اسے خودکشی کہا جائے گا۔ مگر بعض مسلم علماء حماس کے اس عمل کو خودکشی (عملية انتحارية) کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page