Al-Risala · October 1997 · page 48

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸

بجائے شہادت طلبی (عملیہ استشهادِیة) کہہ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دکتور یوسف القرضاوی کا ایک مستقل مقالہ ہفت روزہ روڑہ ۱۰ مع ( ۱۸ جون ۱۹۹۶ ) صفحات ۴۵ - ۴۴ ) میں چھپا ہے ۔

مذکورہ مقالہ میں یوسف القرضاوی نے مختلف دلائل کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس کے نوجوانوں کا یہ اقدام شہادت طلبی کا عمل ہے نہ کہ خودکشی کا ۔ کیوں کہ وہ دشمن کو خوف زدہ کرنے (ارھاب العدو) کی ایک جدید اور موثر تکنیک ہے۔ دوسرے یہ کہ ان نوجوانوں کا مقصد محض خدا کی رضا جوئی ہے اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف کسی کارروائی پر اگر کوئی اس طرح اپنے کو ہلاک کرتا ہے تو یہ لا تلقوا بایدیکم الی التہلکہ کا مصداق ہلاکت نہیں بلکہ شہادت ہے۔ جس طرح صحابہ کرام کے بارے میں آتا ہے کہ مختلف غزوات میں انھوں نے اپنے آپ کو دشمن کے نرغہ میں ڈال دیا اور بالآخر شہید ہو گئے ۔

اس سلسلہ میں دو باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔ اولاً یہ کہ صحابہ وغیرہ نے بعض غزوات میں جو یہ کیا کہ میدانِ جنگ میں دیوانہ وار کود پڑے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ انھوں نے ایسا میدانِ جنگ میں کیا۔ جہاں عملاً جنگ برپا تھی۔ نہ کہ ایسی جگہ جہاں دشمن کے علاوہ بھی بہت سے غیر متعلق لوگ موجود ہیں۔

دوسرے یہ کہ صحابہ نے اگر چہ شہادت کے شوق میں جاں بازی دکھائی۔ مگر اس جاں بازی میں جتنا ان کا لڑ کر مر جانے کا امکان تھا اتنا ہی امکان اس بات کا بھی تھا کہ وہ لڑ کر دشمن کو ماریں گے اور فتح یاب ہو کر لوٹیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ جب قتال کرتے تھے تو یا دشمن کو قتل کرتے تھے یا دشمن کے ہاتھوں قتل ہوتے تھے (فيقتلون ان يقتلون) گویا صحابہ کے اقدام میں احتمالی طور پر دو بہتر نتائج (احدى الحسنين) پوشیدہ تھے۔ یعنی وہاں فتح اور شہادت دونوں کا پچاس پچاس فیصد امکان رہتا تھا۔ مگر اس کے برعکس حماس وغیرہ کے موجودہ اقدام کا نتیجہ یقینی موت ہے۔ ایسی صورت میں اس کو صحابہ کے جاں بازانہ اقدام کے مشابہ قرار دینا قیاس مع الفارق ہے۔ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ میں اس بات کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں کہ جہاں پیشگی طور پر صد فی صد موت یقینی ہو ایسے موقع پر اقدام درست ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page