Al-Risala · October 1997 · page 49

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹

دوسری بات یہ کہ اسلام کا ایک متفقہ اصول یہ ہے کہ جہاد کے معاملہ میں مسلمانوں کی داخلی قوت اصل معیار ہے۔ اگر داخلی اعتبار سے مسلمان مستحکم ہیں تو جہاد کا اقدام کیا جائے گا اگر داخلی استحکام مطلوبہ معیار سے کم ہے تو اسی تناسب سے جہاد کے حکم میں تخفیف ہو جائے گی۔ ابتدائے اہلِ اسلام اپنے ایمان اور اللہ و رسول کے ساتھ محبت و وفاداری میں بہت بڑھے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے سے دس گنی طاقت کے مقابلہ میں جہاد کا حکم دیا۔ مگر جب اس پہلو سے اہل اسلام کی صفوں میں کمزوری آ گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف کردی اور صرف اپنے سے دوگنی قوت کے مقابلہ میں اقدام کی اجازت دی۔ یہ تخفیف اس گروہ کے لیے کی گئی جن کو صحابہ کہا جاتا ہے اور جو نبی آخر الزماں کے ساتھ تھا۔ آج کوئی قائد یا گروہ یہ دعویٰ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے پیغمبر یا آپ کے اصحاب سے زیادہ مستحکم اور طاقت ور ہے۔ چنانچہ آج مسلمانوں کے اوپر تخفیف کا اصول بدرجہ اولیٰ منطبق ہوتا ہے (الئن خفف عنكم ...)

۳ جون کو مغرب کی نماز کے بعد دو عرب طالب علموں سے ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام محمد داؤد تھا جو فلسطین کے رہنے والے ہیں اور ابوظبی کے مدرسہ بن درید میں اول ثانوی میں پڑھتے ہیں۔ فون (459025)۔ دوسرے کا نام عمار مصطفےٰ تھا جو مدرسہ ربعی بن عامر، ابوظبی، میں زیر تعلیم ہیں۔ فون (458752) گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ ابھی ابھی اپنا سالانہ امتحان دے کر فارغ ہوئے ہیں۔ اور اب ان کی گرمی کی چھٹیاں شروع ہوئی ہیں۔

میں نے کہا کہ اسکول کا امتحان تو معمولی امتحان ہوتا ہے اس کو چند ہفتوں یا مہینوں کی محنت کے ذریعہ پاس کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایک بہت بڑے امتحان میں پوری عرب دنیا پچھلے پچاس برس سے مبتلا ہے لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہ امتحان فلسطین کو یہودی قبضہ سے آزاد کرانے کا مسئلہ ہے۔

پھر میں نے کہا کہ آپ لوگوں کا تعلق اس نسل سے ہے جسے اکیسویں صدی میں میدان عمل میں اترنا ہے۔ شاید آپ لوگ اس امتحان میں کامیاب ہو جائیں جس میں پچھلی تین نسلیں مسلسل ناکام ہوتی رہی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ فلسطین کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page