Al-Risala · October 1997 · page 50

مرغ زیرک چوں بدام افتد تحمل بایدش

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۰

آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ۔ اسے طاقت کے ذریعہ آزاد کرایا جاسکتا ہے یا دعوت کے ذریعہ ( تُرَى ، كيفَ نُمكنُ أن تُحرّرَ أرضُ فلسُطين ، بالقوّة ، أم بالدّعوة ؟ ) یہ سوال میں نے ایک کاغذ پر لکھ کر دونوں نوجوانوں کو دیا اور کہا کہ اس پر کم از کم تین دن غور کر کے مجھے بذریعہ ڈاک تحریری یا بذریعہ ٹیلی فون زبانی اپنے جواب سے مطلع کرو۔ اور ہو سکے تو اس معاملہ میں اپنے والدین سے بھی مشورہ کر لو۔

تین دن بعد میں نے خود ان کے گھر فون کیا۔ داؤد کے والد نے کہا کہ اپنے لڑکے کو میں نے امتحان کے زمانے میں بھی اتنا سنجیدہ غور و فکر اور مطالعہ میں غرق نہیں پایا جتنا وہ پچھلے تین روز سے آپ کے سوال کا جواب تیار کرنے میں محو ہیں۔ انھوں نے بڑا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چھٹیوں میں ہم اپنے بچوں کو کوئی بامعنی سرگرمی کا کام نہیں دے پاتے۔ آپ نے بڑا اچھا کیا کہ ان کے خالی اوقات کو ایک بامعنی سرگرمی سے پر کر دیا۔ (لَقَدْ اَحْسَنْتَ اِذْ مَلَأْتَ فَرَاغَهُمْ بِنَشَاطٍ هَادِف) اس کے بعد داؤد سے براہِ راست گفتگو ہوئی۔ وہ اپنا اور اپنے ساتھی عمار کا مشترک جواب مجھے فون پر پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ان کے تفصیلی جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ سر زمینِ فلسطین کو یہود کے جابرانہ قبضے سے طاقت کے سوا کسی اور ذریعہ سے آزاد نہیں کرایا جا سکتا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ دعوت طاقت کی متبادل یا قائم مقام ہو سکتی ہے (لا یُمکِنُ تَحرِيرُ ارضِ فلسطين من الاحتلالِ الْیَهُودِئ الغَاشِمِ إلا بالقوة، ولا نَظُنُّ أنَّ الدّعوة يُمكِنُ أن تَكُوْنَ بَدِيلاً عَنِ القُوَّةِ أَوْ أَنْ تَحُلَّ مَحَلّهَا)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان ابھی تک دعوت کی تسخیری طاقت کا راز دریافت نہیں کر سکے ہیں۔ حالاں کہ تاریخ میں اسلام کی تمام عظیم فتوحات کا دروازہ دعوت ہی کے ذریعہ کھلا ہے۔ اگر اکیسویں صدی میں فلسطین اور اس جیسے دوسرے ملی اور عالمی مسائل کو حل کرنا ہے تو جدید مسلم نسل میں صحیح دعوتی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہمارے مسائل آئندہ کئی صدیوں میں بھی غیر حل شدہ پڑے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page