صحيح طرزِ فکر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۰
صحيح طرزِ فکر
قرآن کے مختلف بیانات پر غور کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حقیقت خواہ کتنی ہی واضح ہو، خواہ وہ خدا کی محفوظ کتاب (قرآن) میں بینات کی زبان میں ادا کی گئی ہو، تب بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس کو صحیح طور پر جان لے اور اس کے مطابق صحیح طور پر اپنے آپ کو ڈھال لے۔ حقائق سے صحیح رہنمائی کے لیے صحیح ذہن کا ہونا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس لیے جو شخص اس دنیا میں ہدایت کی زندگی گزارنا چاہتا ہو اس کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے طرزِ فکر کو درست کرے۔
یہی وہ بات ہے جو قرآن میں مختلف آیتوں میں واضح کی گئی ہے۔ ایک آیت میں فرمایا کہ کہہ دو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کرتا ہے اور تمہارا رب ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ کون شخص زیادہ درست راستہ پر ہے (قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِہ - فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا) الاسراء ۸۴ اس آیت میں شاکلہ سے مراد میلانِ طبع ہے۔ یعنی ہر آدمی اپنے میلانِ طبع کے مطابق رائے قائم کرتا ہے اور اپنے میلانِ طبع کے تحت قائم کی ہوئی رائے پر چلتا ہے مگر صحیح میلانِ طبع وہ ہے جو خدا کی معرفت اور خدا کی ہدایت کے تحت بنا ہو۔
موجودہ دنیا میں صحیح یا غلط رویہ کے لیے یہی میلانِ طبع (شاکلہ) اصل فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اسی کے اوپر ہدایت اور ضلالت کا مدار ہے۔ اس لیے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ دنیا میں خدا کی پسند والی زندگی گزارے اور آخرت میں خدا کے پسندیدہ بندوں میں شمار کیا جائے اس پر لازم ہے کہ وہ سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ اپنے شاکلہ کو درست کرے۔ کیوں کہ بگڑے ہوئے شاکلہ والا آدمی ہدایت سے بھی محروم رہے گا اور نتیجۂ اللہ کی نصرت ورحمت سے بھی۔ سوچنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے متاثر ذہن کے تحت سوچنا اور دوسرا ہے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچنا۔ جب بھی آدمی اپنے ذہن کے خانہ میں سوچے گا اس کی سوچ خلاف واقعہ ہو جائے گی۔ اور جب آدمی خارجی حقیقتوں کی رعایت کرتے ہوئے سوچے تو اس کی سوچ مطابق حقیقت سوچ ہوگی اور مطابق حقیقت سوچ ہی کا دوسرا نام صحیح سوچ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues