ٹالرنس: فطرت کا اصول
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱
ٹالرنس: فطرت کا اصول
ٹالرنس (رواداری، برداشت) ایک یونیورسل اصول ہے۔ شیر اور ہاتھی دونوں انتہائی بڑے جانور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی دونوں ایک ساتھ جنگل میں رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹالرنس کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ جنگلوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف سے ہاتھی آرہا ہو اور دوسری طرف سے شیر گزر رہا ہو تو دونوں اپنا اپنا راستہ بدل کر دائیں اور بائیں سے نکل جاتے ہیں۔ اگر دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ نہ کریں تو دونوں آپس میں لڑنے لگیں، یہاں تک کہ دونوں لڑ کر تباہ ہو جائیں۔
میسر اور باہمی رویہ طریقہ فطرت نے سکھایا ہے۔ اسی طرح انسان کے جسم میں فطرت نے ٹالرنس کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس کو حیاتیاتی ٹالرنس (biological tolerance) کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایک جسم حیوانی کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک چیز سے برا اثر لیے بغیر اس سے ربط کو یا جسم میں اس چیز کے داخل کیے جانے کو برداشت کرے :
جسم کی اسی صلاحیت پر امراض کے علاج کا پورا نظام قائم ہے۔ بیماری کے وقت جسم کے اندر ایسی دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو مجموعی حیثیت سے جسم کے لیے مضر ہیں۔ مگر جسم خارجی چیزوں کے معاملہ میں اپنی ساری حساسیت کے باوجود ایسی دواؤں کو برداشت کرتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ کرتا ہے۔ اسی ”حیاتیاتی ٹالرنس“ کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ دوائیں جسم میں داخل ہو کر اپنا اثر دکھائیں۔ وہ جسم کے اعضاء پر برا اثر ڈالے بغیر اس کے بیمار عضو پر عمل کر کے اس کو اچھا کر سکیں۔ ٹالرنس کا یہی طریقہ انسانی سماج میں بھی مطلوب ہے ۔ جنگل کے جانور جو کچھ اپنی جبلت (instinct) کے تحت کرتے ہیں۔ اور انسانی جسم جو کچھ اپنی فطرت کے تحت کرتا ہے۔ وہی انسان کو اپنے شعور کے تحت کرنا ہے۔ اس کو اپنے سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت ٹالرنس کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues