مستقبل کو جانیے
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲
مستقبل کو جانیے
جان بیٹ (John Bate) سترھویں صدی عیسوی کا ایک برٹش مرچنٹ تھا۔ ١٦٠٦ء کا واقعہ ہے کہ اس نے باہر سے کچھ کشمش (Currants) امپورٹ کی۔ ملک میں داخل ہونے کے بعد جب اس کے سامان پر ٹیکس لگایا گیا تو اس نے ٹیکس کی رقم دینے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ ایک شاہی ٹیکس ہے جس کو کنگ جیمز فرسٹ (١٦٢٥-١٥٦٦) نے خود اپنے اختیار سے جاری کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس کے حق میں قانون نہیں بنایا ہے۔ انگلستان کے حکمراں جیمز فرسٹ نے شاہی مالیات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کے کچھ ٹیکس نافذ کیے۔ عدالت زیریں کے جج نے کینگ کے مطلق اختیار (absolute power) کا حوالہ دیتے ہوئے اس ٹیکس کو جائز قرار دے دیا۔ جان بیٹ اس کے بعد عدالت عالیہ میں گیا۔ اس وقت سرایڈورڈ کوک (Sir Edward Coke) عدالت عالیہ کے چیف جسٹس تھے۔ انھوں نے مقدمہ کی سماعت کرنے کے بعد جان بیٹ کے حق میں فیصلہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ بادشاہ کو پارلیمنٹ کی اجازت کے بغیر از خود کوئی ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
جسٹس کوک کے اس فیصلہ پر بادشاہ بہت برہم ہوا۔ اس نے اپنے شاہی اختیارات سے جسٹس کوک کو عدالتی عہدہ سے ڈسمس کر دیا، اور اپنے حکم کے تحت شاہی ٹیکس کے قانون کو دوبارہ بحال کر دیا (14-3/240)
اس واقعہ کو اب تقریبا چار سو سال گزر چکے ہیں۔ آج صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ آج برطانیہ میں اور دوسرے ملکوں میں مسلم طور پر مان لیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ سب سے بڑا قانونی ادارہ ہے۔ بادشاہ یا کوئی بھی شخصیت اس کے ماتحت ہے نہ کہ اس کے اوپر۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ ایسے الفاظ بول رہا ہے جو آئندہ بے حقیقت ہو جانے والے ہیں۔ ہر انسان ایسے عمل میں سرگرم ہے جس کی کوئی قیمت اس کو موت کے بعد کی زندگی میں ملنے والی نہیں۔ کامیاب وہ ہے جس کا قول وعمل آخرت کی دنیا میں باوزن ٹھہرے، اور نا کام وہ ہے جس کا قول وعمل آخرت میں بے وزن ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues