Al-Risala · November 1997 · page 23

شر میں خیر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳

شر میں خیر

شرک کیا ہے ۔ شرک دراصل فطرت کی پرستش (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ ساتویں اور آٹھویں صدی کے اسلامی انقلاب نے جب شرک کے غلبہ کو ذہنوں سے ختم کیا تو اسی کے ساتھ فطرت کو مقدس سمجھ کر اس کو پوجنے کا ذہن بھی ختم ہوگیا۔ اب فطرت کی چیزیں پرستش کا موضوع نہ رہیں بلکہ تحقیق و تسخیر کا موضوع بن گئیں۔ اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جو آخر کار جدید سائنسی اور ٹیکنکی انقلاب تک پہنچا۔

فطرت کی بے لاگ تحقیق سے جب انسان کو حیرت انکن فتوحات حاصل ہوئیں، اور دو طور پر تحقیق و تفتیش کی عظمت لوگوں کے ذہنوں پر چھا گئی۔ اس طرح جو نیا رجحان پیدا ہوا اس کے زیر اثر ہر چیز کی تحقیق ہونے لگی۔ یہاں تک کہ مقدس مذہب بھی اس کے دائرۂ تحقیق سے نہیں بچا۔ مذہب کے عقائد، مذہب کی کتب اور مذہب سے تعلق رکھنے والی دوسری تمام چیزوں کی بھی کھلی تحقیق شروع ہو گئی۔

سونے کے ایک سو زیور سنار کے پاس جانچ کے لیے لائے جائیں۔ ان میں سے ۹۹ زیور مشابہ دھات کے بنے ہوئے ہوں۔ صرف ایک زیور خالص سونے کا ہو۔ اب سنار تو زیوروں کو جانچنے کے لیے ان سب کو آگ پر رکھے گا۔ مگر آگ پر رکھا جانا ۹۹ زیوروں کے لیے تو مسئلہ ہے لیکن ایک زیور کے لیے وہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ آگ کی تپش ۹۹ زیوروں کا بے حقیقت ہونا ثابت کرے گی۔ لیکن ایک زیور جو خالص سونے کا ہے، اس کا درجہ پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دے گی۔ یہی معاملہ موجودہ زمانہ میں پیش آیا۔ تحقیق کے عمومی ذوق کے تحت جب مذاہب کی علمی جانچ شروع ہوئی تو اسلام بھی اس کی زد میں آگیا۔ اسلام کو بھی اس کی وجہ سے کچھ آنچ“ پہنچی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس ”شر“ کے اندر ”خیر“ کا عظیم پہلو چھپا ہوا تھا۔ کیوں کہ اس کھلی تحقیق نے خالص علم انسانی کے معیار پر یہ ثابت کر دیا کہ تمام مذاہب محرف، غیر معتبر اور غیر ثابت شدہ حالت کو پہنچ گئے ہیں۔ ان کے درمیان صرف ایک مذہب ہے جو ہر طرح قابل اعتبار اور ثابت شدہ ہے۔ اور وہ مذہب اسلام اور صرف اسلام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page