Al-Risala · November 1997 · page 24

مسلم معاشرہ میں جذباتیت کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴

مسلم معاشرہ میں جذباتیت کا مسئلہ

ہندوستان کے مسلم معاشرہ میں بظاہر بہت سے مسائل دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو تمام مسائل کی جڑ صرف ایک نظر آئے گی۔ اور وہ مسلمانوں کی بڑھی ہوئی جذباتیت ہے۔ مسائل زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ بے مسائل زندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب مسائل پیش آئیں تو کیا کیا جائے ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے ۔ اور وہ یہ کہ جلد بازی چھوڑ کر صبر و تحمل کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ یہ اصول قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا : پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا ، اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (الاحقاف ۳۵)

انفرادی یا اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں رد عمل کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک ہے فوری اور جذباتی جواب (emotional response) اور دوسرا ہے سوچا سمجھا ہوا جواب (considered response) ۔ پہلے قسم کے رد عمل کا نام عجلت ہے اور دوسرے قسم کے رد عمل کا نام صبر ۔ عجلت ہر قسم کی نا کامی کا راز ہے۔ اور صبر ہر قسم کی کامیابی کا راز ۔ زندگی کا نظام فطرت کے قانون پر چل رہا ہے ۔ یہ قانون مسابقت اور کا مپیٹیشن ہے۔ اسی کو قرآن میں اس کے انتہائی مفہوم کے اعتبار سے عداوت کہا گیا ہے۔ (البقرہ ۳۶) کوئی بھی اس پر قادر نہیں کہ وہ خدا کے مقرر کیے ہوئے اس نظام کو بدل سکے ۔ مسابقت یا عداوت کا یہ معاملہ خود آدم کے زمانہ میں ہابیل اور قابیل کے نزاع کی صورت میں سامنے آگیا تھا۔ وہ تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آیا۔ اسی طرح وہ قیامت تک برابر جاری رہے گا۔

اب کرنا کیا ہے۔ کرنا یہ ہے کہ جب مسائل پیش آئیں تو مشتعل ہو کر جذباتی ہنگامہ آرائی نہ کی جائے ۔ بلکہ اپنے آپ کو تھام کر سوچا جائے ۔ اہل افراد سے مشورہ کیا جائے۔ دعا اور استخارہ کیا جائے ۔ اس کے بعد ٹھنڈے ذہن کے تحت فیصلہ کر کے اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ جذباتیت غیر منظم عمل ہے ، اور صبر اس کے مقابلہ میں منظم عمل ۔ بدقسمتی سے ہندوستانی مسلمانوں نے پچھلے دو سو سال کے دوران ایک بار بھی صبر والے طریقہ پر

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page