Al-Risala · November 1997 · page 26

مسلم معاشرہ میں جذباتیت کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶

وہ اس طرح ہوا کہ مسلمانوں کو اپنے پڑوسی ہندوؤں سے کچھ تلخ تجربات پیش آئے مثلاً مسجد کے سامنے باجا بجانا یا اشتعال انگیز نعرے لگانا، وغیرہ۔ اس قسم کے تجربات کو لے کر مسلمانوں کے جذباتی رہ نما بھڑک اٹھے۔ انھوں نے پوری قوم کو جذباتیت کا طوفان بنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندو متعصب ہیں۔ ہندوؤں کا الگ کلچر ہے۔ ہندو مسلمانوں کے لیے مسئلے پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک علاحدہ خطہ (مسلم لینڈ) چاہیے جہاں ہم اس قسم کے مسائل سے محفوظ رہ کر پر امن زندگی گزار سکیں۔ یہ جذباتی تحریک مسلمانوں میں اتنا زیادہ مقبول ہوئی کہ ملت کا بیشتر حصہ اس کے ساتھ ہو گیا۔ یہاں تک کہ مجبوراً، ۱۹۴۷ میں ملک کو تقسیم کرنا پڑا۔

اب اگر نتیجہ کو دیکھے تو وہ نہ صرف صفر ہے بلکہ الٹا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر جو کچھ گزرتا جا رہا ہے وہ ہر شخص کو معلوم ہے۔ مگر خود مسلم لینڈ (پاکستان) کی حالت کیا ہے۔ پچھلے پچاس سال سے وہاں شدید ترانداز کی لڑائی جاری ہے۔ پنجابی اور بنگالی کی لڑائی، مہاجر اور سندھی کی لڑائی، شیعہ مسلمان اور سنی مسلمان کی لڑائی۔ حتی کہ سپاہ صحابہ اور سپاہ محمدی کی لڑائی۔ وغیرہ۔ تقسیم کی تحریک کا یہ الٹا نتیجہ کیوں برآمد ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہندوؤں کی طرف سے جب کچھ تلخ تجربات ہوئے تو اس پر صبر و تحمل کے ساتھ غور نہیں کیا گیا۔ اگر صبر و تحمل کے ساتھ غور کیا جاتا تو معلوم ہوتا کہ یہ ہندو کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا مسئلہ ہے۔ جہاں بھی کچھ انسان ہوں گے، خواہ وہ کئی مذہب کو ماننے والے ہوں یا ایک مذہب کو ماننے والے، لازماً ان کے درمیان نزاعات پیدا ہوں گے۔ نزاع اور چیلنج سے خالی سماج اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔

تقسیم کے علم بردار اگر غور کرتے تو وہ اس حقیقت کو جان لیتے ۔ پھر وہ مسلمانوں سے کہتے کہ تم لوگ ملک کو بٹوا کر اگر علاحدہ مسلم لینڈ بنو الو گے تو وہاں بھی نزاع جاری رہے گی۔ پھر تم کیا کرو گے۔ اس لیے صبر و تحمل کے ساتھ جینا سیکھو۔ زندگی کے مسائل کا حل علیحدگی میں نہیں ہے۔ بلکہ برداشت میں ہے۔ مسلمانوں کو یہ سبق نہیں دیا اس لیے وہ پہلے بھی لڑتے تھے اور اب بھی لڑ رہے ہیں۔ یہ دوتاریخی مثالیں محض ایک اندازہ کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ ورنہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے لیڈروں کی رہ نمائی میں جتنی بھی تحریکیں اٹھائی ہیں وہ سب کی سب جذبات کے تحت اٹھیں اور جذبات ہی کے اوپر ختم ہو گئیں۔ اس کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page