مسلم معاشرہ میں جذباتیت کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷
اب مسلمانوں کو مزید تباہی سے بچانے کی واحد صورت یہ ہے کہ مذکورہ قرآنی آیت کی روشنی میں انھیں اس معاملہ میں باشعور بنانے کی کوشش کی جائے۔ انھیں بتایا جائے کہ مسئلہ پیش آنے پر بھڑک اٹھنا یا جذباتی اقدام کرنا کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ ایسا اقدام صرف برعکس نتیجہ والا (counter-productive) ثابت ہوگا اور ہماری تباہی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے تاکہ وہ معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ وہ باشعور انسان کی مانند جینے والے بنیں۔ وہ سطحی نعروں اور گہری تدبیروں کے فرق کو سمجھیں۔ وہ اس راز کو سمجھیں کہ تباہ کن اچھل کود اور چیز ہے اور نتیجہ خیز اقدام اس سے بالکل مختلف دوسری چیز۔
مسلمانوں کو جب تک جذباتیت اور اشتعال پذیری کے موجودہ گڑھے سے نہ نکالا جائے کسی بھی قسم کی کوئی ترقی ہرگز ممکن نہیں۔
جذباتیت کا یا جذباتی طریقہ کا مہلک ہونا ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے کامن سنس ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلمان دنیا کی واحد قوم ہیں جو موجودہ زمانہ میں استثنائی طور پر جذباتیت کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔ اس کی وجہ تمام تر وہ نااہل مسلم رہنما اور بے دانش مسلم دانشور ہیں جنھوں نے ناقابل فہم نادانی کے ساتھ اس قسم کی کارروائیوں کو جہاد بتایا۔ اور اس میں پیش آنے والی تباہی کو شہادت بتا کر اسے آخری حد تک گلوریفائی کیا۔
اس قسم کی باتیں کرنا رہ نمائی نہیں ہے بلکہ رہزنی ہے۔ وہ دانش وری نہیں ہے بلکہ سراسر بے دانشی ہے۔ اس غلط ذہنی قیادت نے مسلمانوں کے ذہن کو اتنا زیادہ بگاڑ دیا ہے کہ اب اس کا کوئی فوری حل ممکن نہیں۔ ضرورت ہے کہ خاموشی کے ساتھ لمبی مدت تک مسلمانوں کی ذہنی تعمیر اور فکری اصلاح کی جائے۔ اس کے بعد ہی ان کے لیے کسی حقیقی مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues